چیٹ جی پی ٹی کا نیا لائٹ ورژن متعارف
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی اپنے ڈیپ ریسرچ فیچر تک سب کی رسائی کو بڑھانے کے لیے ایک نیا لائٹ ورژن متعارف کرانے جا رہی ہے۔
کمپنی کے او4-منی ماڈل سے چلنے والا یہ ورژن اصل ورژن کی طرح ہیوی ڈیوٹی تو نہیں، لیکن اپنے اندر بھرپور خصوصیات رکھتا ہے۔
یہ فیچر موقع پر ویب کو سرف کرسکتا ہے، تازہ ڈیٹا لا سکتا ہے اور جلد از جلد جواب دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کو مفت استعمال کیا جا سکتا ہے۔اوپن اے آئی کے مطابق ڈیپ ریسرچ کے ہلکے ورژن کے جواب تو شاید مختصر ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معیار پر سمجھوتا ہوگا۔ صارفین کو قابلِ قدر نتائج ملیں گے لیکن اختصار کے ساتھ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔