بھارت پاکستان کی صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہے، مہم جوئی کی کوشش کی تو بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا: احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کی صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہے، مہم جوئی کی کوشش کی تو بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
"جیو نیوز "کے پروگرام "کیپٹل ٹاک" میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی صلاحیتوں سے بھارت بخوبی واقف ہے، اگر مہم جوئی کی کوشش کی تو اُس کو بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ بھارت اپنے عزائم میں مکمل ناکام رہے گا۔ بھارت پانی کو کشمیر سے توجہ ہٹانے کےلیے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے لیکن وہ اپنے عزائم میں مکمل ناکام رہے گا۔پاکستان کی صلاحیتوں سے بھارت بخوبی واقف ہے۔ پاکستان کے دشمن ہماری صلاحیت، وسائل اور ترقی سے خائف ہیں۔
پہلگام واقعہ سے کوئی لینا دینا نہیں، بھارت نے کوئی جارحیت کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا: اسحاق ڈار
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔