آزاد میڈیا پر پابندی کا مقصد بھارتی عوام کو سچائی تک براہ راست رسائی سے روکنا ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں نئی دہلی کی ظالمانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے سچ کا گلا گھونٹنے اور اپنی گرتی ہوئی عالمی ساکھ کو سہارا دینے کے لئے پاکستانی چینلز پر پابندی لگا کر اور ان بین الاقوامی میڈیا اداروں کو دھمکیاں دے کر آزاد میڈیا کو کھوکھلا کر دیا ہے جو پہلگام فالس فلیگ آپریشن پر اس کے بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارت ہر ناکامی کے بعد ایک فالس فلیگ آپریشن کرتا ہے اور پہلگام واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ بھارت نے اندرونی انتشار سے توجہ ہٹانے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا ہندوتوا ایجنڈے کی ترجمانی کرتا ہے۔ ریاستی سرپرستی میں چلنے والے اینکرز تشدد کو ہوا دیتے ہیں، اقلیتوں کو مجرم کے طور پر پیش کرتے ہیں اور حقیقی صحافت کو پروپیگنڈے سے گندا کر دیتے ہیں۔

دوسری طرف آزاد میڈیا پر پابندی کا مقصد بھارتی عوام کو سچائی تک براہ راست رسائی سے روکنا ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں نئی دہلی کی ظالمانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ بیانیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے مودی حکومت ہر قسم کا پروپیگنڈا کرتی ہے۔مودی حکومت میں سچ بولنے کو غداری سمجھا جاتا ہے۔ بھارتی صحافیوں کو بنیادی سوالات پوچھنے پر جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، ہراساں اور جلاوطن کیا جاتا ہے۔ بی بی سی اور ڈی ڈبلیو جیسے بین الاقوامی اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت سچا ہے تو وہ غیر ملکی جانچ سے کیوں بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جمہوریت نہیں میڈیا مارشل لاء ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی کے بھارت کو نام نہاد دہشت گردی سے زیادہ سچائی سے خطرہ ہے۔

بھارت پاکستانی میڈیا کو دبا کر اور غیر ملکی صحافیوں کو دھمکیاں دے کر جمہوریت کا دکھاوا کرنا چاہتا ہے۔ کریک ڈان کی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں ماورائے عدالت قتل، گھروں کو مسمار کرنے اور بڑے پیمانے پر نظربندیوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جسے بھارتی میڈیا نے بڑی حد تک نظرانداز کیا ہے۔بین الاقوامی برادری کی جانب سے نئی دہلی کی ساکھ پر سوال اٹھانے کے بعد بھارت کا نام نہاد سافٹ پاور کا محاذ ٹوٹنا شروع ہو گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آزاد میڈیا کرتا ہے

پڑھیں:

عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا

مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔

پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی