روس کا پاکستان اور بھارت سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
روس نے پاکستان اور بھارت سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے تعمیری بات چیت کا آغاز کرنے پر زور دیا ہے۔
نائب روسی وزیر خارجہ اینڈری روڈینکو اور ماسکو میں تعینات پاکستانی سفیر محمد خالد جمالی کے درمیان ملاقات کے بعد روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روس نے دونوں فریقین سے تحمل اور تعمیری بات چیت کی اپیل کی ہے جس کا مقصد اختلافات کا پرامن حل ہو۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل کی پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تعاون کی پیشکش
ملاقات کے دوران، فریقین نے روس پاکستان بات چیت کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے پر اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ پر تبادلہ خیال کیا۔
روسی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ یہ بات چیت پاکستانی سفیر کی درخواست پر ہوئی۔
مزید پڑھیں: مودی سرکار کا کشمیری مسلمانوں کے خلاف بھیانک منصوبہ، 40 ہزار انتہا پسند ہندوؤں کو ہتھیار پہنچا دیے
22 اپریل کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مشہور سیاحتی شہر پہلگام میں مسلح افراد نے مشین گنوں سے فائرنگ کرتے ہوئے 26 شہریوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا تھا، حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پہلگام روس سیاحتی شہر کشیدگی نئی دہلی وزارت خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد پہلگام سیاحتی شہر کشیدگی نئی دہلی بات چیت
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔