کئی بھارتی ویب سائٹس پاکستان میں بند کر دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
کئی بھارتی ویب سائٹس پاکستان میں بند کر دی گئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 30 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے پہلے مرحلے میں بھارت کی متعدد ویب سائٹس کو ملک میں بلاک کر دیا ہے، جو بھارت کے پاکستان مخالف اقدامات کا جواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے جو پاکستان کے ساتھ کیا، ہم نے بھی وہی کچھ بھارت کے ساتھ کر دیا ہے، اور یہ صرف شروعات ہے۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ بھارت کے ہر اقدام کا جواب سود سمیت دیا جائے گا۔ ان کا دو ٹوک مؤقف تھا کہ ”یہ جواب اصل ہے، سود ابھی باقی ہے۔“
اس سے قبل سینیٹر فیصل واوڈا نے سخت لب و لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارت نے جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو پاکستان ایسا جواب دے گا کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ ردعمل کے لیے مکمل تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کہیں بھی دہشت گردی ہو، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پہلا وار ہم کریں گے اور دشمن کی بنیادیں ہلا دیں گے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے بھارت کی جانب سے پانی بند کرنے کی دھمکیوں کا بھی سخت جواب دیا اور کہا کہ اگر بھارت نے پانی بند کیا تو پہلا حملہ پاکستان کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو تجارتی اور فضائی حدود بند کر کے بھرپور نقصان پہنچایا ہے، اور اس وقت پوری قوم متحد ہو کر اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ فیصل واوڈا نے بھارتی سابق جنرل کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خود بھارتی جرنیل مان رہے ہیں کہ پاکستان آرمی بہت تگڑی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروائٹ پیپر’’نوول کورونا وائرس وباء کی روک تھام، کنٹرول اور وائرس کی ابتداء کا سراغ لگانے پر چین کے اقدامات اور موقف‘‘ کا اجراء واہگہ بارڈر کے راستے مزید 315 مسافربھارت روانہ، 201 پاکستانی بھی وطن لوٹ آئے وفاقی وزیر صحت کا بھارت سے بغیر علاج بھیجے گئے 2 بچوں کا علاج سرکاری خرچ پر کرانے کا اعلان امریکی اخبارنے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا پردہ فاش کر دیا ایک سو نوے ملین پائونڈ کیس:بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کیلیے مقرر کرنے کی ہدایت ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل کیا جائے تو یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا، وزیر خزانہ پیر کو ملٹری کورٹس کیس کی حتمی سماعت ہونی ہے،، جج آئینی بینچCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔