بولنا مجھے بھی آتا ہے لیکن ۔۔۔!!!بابراعظم نے تنقید کرنے والوں کو جواب دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پی ایس ایل 10 میں پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے خود پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بولنا مجھے بھی آتا ہے لیکن مجھے باتیں کرنے سے زیادہ گراونڈ میں کھیلنا پسند ہے۔
بابر اعظم نے کہا کہ پی ایس ایل 10کا سیزن بحیثیت ٹیم اور انفرادی کارکردگی اوپر نیچے جا رہا ہے، آغاز میں ہم نے وننگ کمبی نیشن بنانے کی کوشش کی، دو فتوحات ملیں لیکن ہمیں کارکردگی میں تسلسل لانا ہوگا۔بابر اعظم کا کہنا تھا آدھا ایونٹ گزر چکا ہے ہم نے کئی میچز کبھی بیٹنگ اور کبھی بولنگ میں ہارے، فیلڈنگ میں خاص طور پر ہم اچھے نہیں رہے، کنڈیشنز خواہ کوئی بھی ہوں پلان کے مطابق کھیلنا پڑتا ہے لیکن یہ دیکھنا چاہیے کہ اہم وقت پر وکٹ نہیں دیتے یا پھر کیچ نہیں چھوڑتے۔
بابر اعظم نے اس حوالے سے کہا کہ لوگ مجھے کریز پر زیادہ دیر تک دیکھنا چاہتے ہیں، میں اپنی چھوٹی اننگز سے بھی لطف اندوز ہوتا ہوں لیکن لوگوں کی توقع کے مطابق لمبا نہیں کھیل پا رہا، مجھ سے غلطیاں ہوتی ہیں، اگلی مرتبہ ان غلطیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن پھر کوئی اور غلطی ہو جاتی ہے۔
بابر اعظم نے کہا کہ کرکٹ میں ایسا ہوتا رہتا ہے، اہم بات یہ ہے کہ آپ کتنا فوکس رہتے ہیں، میں اب بھی بہت فوکس ہوں، اپنی گیم کے مطابق چلتا ہوں، مجھے بھی اندازہ ہے کہ آج کل اسٹرائیک ریٹ اور تیز کھیلنے کی بات ہوتی ہے، مجھے کسی کو ثابت نہیں کرنا کہ میں کیسا پلیئر ہوں، سب کو پتہ ہے میں ہمیشہ صورتحال اور ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔