پہلگام حملے کے بعد انڈیا نے بغیر کسی ثبوت کے فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کر دیا اور یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے خوب میمز بنائیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام ممکنہ جنگ کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔

پاکستانی سوشل میڈیا صارفین بھارتی اقدام کا تمسخر اڑاتے نظر آئے کسی نے کہا کہ ’پانی بند ہو گیا تو میں نہاؤں گا کیسے‘۔ تو کوئی منہ پر صابن لگا کر مودی کو پانی کھولنے کا کہتا رہا۔

اس دوران بھارت میں کچھ نوجوانوں نے پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کو پانی کی بوتلیں بھیجنے پر مبنی ایک میم ویڈیو بنائی۔ جس میں ایک ڈبے میں چند پانی کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں اور ان پر لکھا تھا کہ یہ انڈیا کی طرف سے ہانیہ عامر کے لیے ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Instant Bollywood (@instantbollywood)

 یہ بوتلیں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سندھ طاس معاہدے کی طرف اشارہ تھیں، جسے حال ہی میں نئی دہلی نے معطل کر دیا ہے۔

ویڈیو وائرل ہوئی تو صارفین کی جانب سے اس پر دلچسپ تبصرے کیے گئے۔ کسی نے کہا کہ پاکستان میں بھی پانی مل رہا ہے تو کوئی یہ کہتا نظر آیا کہ جو میمز پاکستانی بنا رہے ہیں وہ بھی دیکھیں۔

ایک صارف نے کہا کہ یہ بالکل بھی مزاحیہ نہیں ہے بلکہ افسوسناک ہے۔ جبکہ حسان نامی صارف کا کہنا تھا کہ آپ نے پتہ ہی غلط لکھا ہے ہانیہ عامر اسلام آباد میں نہیں بلکہ کراچی میں رہتی ہیں اور پہلے پانی بند کریں پھر ایسی بچوں والی ویڈیوز بنانا۔

واضح رہے کہ پہلگام واقعہ کے بعد پاکستانی فنکاروں کے بھارتی منصوبوں میں کام کرنے کے معاملے پر بھی شدید بحث جاری ہے اور بھارت کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی فنکاروں پر پابندی عائد کی جائے کیونکہ اس وقت فواد خان نے ’عبیر گلال‘ میں کام کیا تھا جو اب ریلیز نہیں کی جا رہی جبکہ ہانیہ عامر دلجیت دوسانجھ کی فلم ’سردار جی 3‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی تھیں جس کے حوالے سے خبریں آئیں کہ اب ان کی جگہ کوئی اور یہ کردار ادا کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ دلجیت دوسانجھ سردار جی 3 عبیر گلال فواد چوہدری ہانیہ عامر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بالی ووڈ دلجیت دوسانجھ عبیر گلال فواد چوہدری ہانیہ عامر ہانیہ عامر کے بعد

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری