بلوچستان میں دہشت گردی میں RAW کے ملوث ہونے کے چونکا دینے والے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مارچ 2025 میں نوشکی میں مسافر بس پر ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی دو RAW ایجنٹس نے کی تھی، جنہوں نے یہ حملہ BLA کے دہشت گردوں کے ذریعے کروایا۔
ان RAW ایجنٹس کی شناخت آشیش کمار اور بشوناتھ داس کے طور پر ہوئی ہے ۔
16 مارچ 2025 کو نوشکی میں ایک خوفناک خودکش حملہ اور اس کے بعد اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں کئی معصوم افراد شہید ہو گئے، جو عید الفطر کے موقع پر اپنے آبائی علاقوں کا سفر کر رہے تھے۔
اس سانحے میں 5 افراد شہید ہوئے، جن میں سیکیورٹی فورسز کے 3 اہلکار بھی شامل تھے۔
تحقیقات کے دوران پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ حملہ ہمسایہ ملک سے تعلق رکھنے والے RAW ایجنٹس نے منصوبہ بندی کے تحت کیا۔
ہندوستانی RAW ایجنٹس آشیش کمار اور بشوناتھ داس نے ہمسایہ ملک میں BLA کے ایک مقامی کمانڈر سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا منصوبہ بنایا۔ اور ایسا وقت چنا جب عید کے باعث زیادہ سے زیادہ لوگ ایک ساتھ سفر کر رہے تھے تاکہ زیادہ جانی نقصان ہو اور بلوچستان میں خوف و ہراس اور عدم استحکام پیدا ہو۔
تحقیقات جاری ہیں اور حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان RAW ایجنٹس کے ملوث ہونے کے مزید شواہد بھی حاصل ہو چکے ہیں۔
بھارتی حملے کا خطرہ برقرار ہے لیکن ہماری مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں: عطا تارڑ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: RAW ایجنٹس
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔