تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں: بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
مشیرِ اطلاعات خیبر پختون خوا بیرسٹر محمد علی سیف—فائل فوٹو
مشیرِ اطلاعات خیبر پختون خوا بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں۔
ایک بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہو رہی ہے، عالمی مارکیٹ کے مطابق صرف اپریل میں فی لیٹر 20 روپے کمی ہونی چاہیے تھی۔
بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپریل میں 2 بار تیل کی قیمتوں میں کمی نہ کر کے عوام کو ریلیف سے محروم کیا، حقیقت میں حکومت ریلیف دینے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کیا گیا.
پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دور سے بھی کم ہو چکی ہیں، ان کے دور میں پیٹرول 150 روپے فی لیٹر تھا۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 2، 2 روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 252 روپے 63 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 256 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: تیل کی قیمتوں میں فی لیٹر
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔