وفاقی حکومت کا ہول سیل مارکیٹ کیلئے بجلی کی پیداوار کا نظام پرائیویٹ سیکٹر کے سپرد کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
شاہد سپرا: وفاقی حکومت نے ہول سیل مارکیٹ میں بجلی کی فراہمی کا نظام پرائیویٹ سیکٹر کے سپرد کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہےجس کا مقصد بجلی کے شعبے پر موجود بوجھ کو کم کرنا اور صارفین کو سستی بجلی فراہم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق لیسکو کے ایک میگاواٹ سے زائد لوڈ رکھنے والے صارفین آئندہ پرائیویٹ بجلی گھروں سے براہِ راست بجلی خرید سکیں گے۔ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی اور خریدار کے درمیان 24 گھنٹے بجلی فراہمی کا معاہدہ کیا جائے گا۔
دبئی پاورلفٹنگ اینڈ باڈی بلڈنگ انٹرنیشنل چیمپئن شپ: پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کرلیا
بجلی پیدا کرنے اور خریدنے والے دونوں فریقین، لیسکو کا ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم استعمال کریں گے جس کے بدلے لیسکو کو ترسیلی نظام کے کرایے کی مد میں ادائیگی کی جائے گی۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام سے قومی گرڈ پر بوجھ میں واضح کمی آئے گی،بجلی کے ٹیرف میں کمی کے امکانات روشن ہوں گے اور آئی پی پیز (نجی بجلی گھروں) پر انحصار کم ہونے سے مالی دباؤ بھی کم ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔