Daily Ausaf:
2026-06-03@00:14:49 GMT

نہری پانی کی منصفانہ تقسیم:خواب یا حقیقت

اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT

پاکستان کے صوبہ سندھ کی تاریخ، ثقافت اور معیشت میں دریائے سندھ اور اس سے جڑا ہوا نہری نظام ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ سندھ کو وادیء سندھ کی تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا ہے اور یہ تہذیب دریائوں کے کنارے پروان چڑھی۔ آج بھی سندھ کی زراعت اور کسانوں کی معیشت کا دارومدار انہی نہروں پر ہے جو دریائے سندھ سے نکالی گئی ہیں۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان نہروں میں پانی کی کمی، ناقص منصوبہ بندی، وفاقی و صوبائی کشمکش اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے اس پورے نظام کو زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔ سندھ کے عوام، بالخصوص کسان، اس وقت شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں، اور یہی بے چینی احتجاج کی صورت میں ملک کی سڑکوں پر نظر آتی ہے۔برطانوی دور حکومت میں سندھ کے لیے نہری نظام کو بڑی اہمیت دی گئی تھی۔ برطانوی ماہرین نے دریائے سندھ کی وسعت کو دیکھتے ہوئے نہروں کا ایک جال بچھایا تاکہ سندھ کی وسیع و عریض زمینوں کو زرعی مقاصد کے لیے استعمال میں لایا جا سکے۔ سکھر بیراج، گڈو بیراج اور کوٹری بیراج جیسے عظیم منصوبے اسی دور کے ورثے ہیں جنہوں نے سندھ کو ایک زرعی معیشت کی بنیاد فراہم کی۔ ان منصوبوں کے ذریعے لاکھوں ایکڑ زمین آباد ہوئی اور سندھ کا کسان خوشحال ہوا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی، پانی کے مطالبے میں اضافہ، اور دیگر صوبوں کے ساتھ پانی کی تقسیم کے تنازعات نے صورت حال کو بگاڑنا شروع کر دیا۔آج سندھ میں نہری نظام شدید زبوں حالی کا شکار ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ پانی کی قلت کا ہے۔ دریائے سندھ میں پانی کی آمد کم ہو رہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور برفباری کے سیزن کا مختصر ہونا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ، پنجاب کی طرف سے زیادہ پانی لینے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ صرف پانی کی عدم دستیابی نے ایک وسیع تر انسانی بحران کو جنم دیا ہے، جس کا دائرہ زراعت سے نکل کر معیشت، خوراک، بے روزگاری اور تعلیم تک پھیل چکا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے نئے آبی منصوبے، جیسے کہ کالا باغ ڈیم یا دیگر نہری نکاس کے منصوبے، سندھ میں ایک خطرناک ردعمل کا باعث بن رہے ہیں۔ سندھ کے عوام کا یہ ماننا ہے کہ ان منصوبوں کا مقصد پنجاب کو زیادہ پانی دینا ہے جبکہ سندھ کے لوگوں کو مزید محرومی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عوامی سطح پر بھی ان منصوبوں کو ’’پانی پر قبضہ‘‘ تصور کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سندھ کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر احتجاجات ہو رہے ہیں۔ یہ احتجاج صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں بلکہ عام کسان، مزدور، طالب علم اور شہری بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔اس ساری صورت حال میں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکی۔
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) جیسے ادارے بھی اکثر تنازعات کا شکار رہتے ہیں، اور سندھ کو اس بات پر شکایت ہے کہ اس کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین مل بیٹھ کر ایک جامع، شفاف اور دیرپا حل نکالیں جس سے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کو فائدہ ہو۔ کیونکہ اگر سندھ میں زراعت ختم ہوئی، تو ملک کی معیشت پر اس کے منفی اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔ایک اور قابل غور پہلو یہ ہے کہ نہروں کی صفائی اور مرمت کا عمل انتہائی سست ہے۔ پرانے نہری نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ نہیں کیا گیا، جس سے پانی کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ غیر قانونی واٹر کورسز، پانی کی چوری اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کی طرف سے پانی کے ناجائز استعمال نے بھی بحران کو بڑھایا ہے۔ دیہی علاقوں میں اکثر چھوٹے کسانوں کو پانی نہیں ملتا جبکہ بڑے زمینداروں کے کھیتوں میں پانی کی فراہمی جاری رہتی ہے، جس سے معاشرتی تفریق اور ناراضگی مزید بڑھتی ہے۔ ماحولیاتی اثرات بھی اس نہری بحران کا ایک اہم پہلو ہیں۔ پانی کی کمی سے نہ صرف فصلیں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ جنگلی حیات، آبی حیات اور دریا کے اطراف کا ماحولیاتی نظام بھی تباہ ہو رہا ہے۔ سندھ کی کئی جھیلیں اور دریائی علاقے خشک ہو چکے ہیں، جس سے مقامی ایکوسسٹم کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند برسوں میں سندھ کا ماحولیاتی منظرنامہ مکمل طور پر بدل جائے گااور اس کے اثرات نسل در نسل محسوس کیے جائیں گے۔عوامی احتجاج کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں احساس ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔ لوگ سڑکوں پر اس لیے نکلتے ہیں کہ ان کی آواز سنی نہیں جاتی، ان کی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں، ان کے بچے بھوکے سو رہے ہیں اور ان کے مستقبل پر اندھیرے چھا رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی شکایت ہے کہ حکومت ان کے مسائل کو صرف انتخابی نعرے کے طور پر استعمال کرتی ہے، لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جب تک اس احساس محرومی کا تدارک نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہیں گے۔اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر ایک متفقہ آبی پالیسی بنائیں۔ اس پالیسی میں پانی کی منصفانہ تقسیم، نہروں کی مرمت، جدید آبپاشی نظام کا نفاذ، غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی اور کسانوں کو براہ راست نمائندگی دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں پانی کے درست استعمال اور بچت کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ وسائل کا ضیاع روکا جاسکے۔ پانی کا مسئلہ محض سندھ کا مسئلہ نہیں، یہ پاکستان کے ہر فرد کا مسئلہ ہے، اور اگر آج ہم نے اسے حل نہ کیا تو کل یہ بحران ناقابلِ کنٹرول ہو جائے گا۔سندھ کی نہریں محض پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کی ثقافت، تاریخ، اور معیشت کی علامت ہیں۔ ان نہروں کو خشک ہونے دینا گویا سندھ کے وجود کو کمزور کرنا ہے۔ ہمیں ایک قوم بن کر سوچنا ہو گا، صوبائی تقسیم سے بالاتر ہو کر اجتماعی فلاح کی طرف بڑھنا ہو گا۔ اگر ہم نے پانی کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو ہمارے آنے والے نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: دریائے سندھ میں پانی کی کے ساتھ سندھ کی پانی کے سندھ کے رہے ہیں کی طرف

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا