سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اے پی سی کے اعلامیے پر بی ایل اے کی چھاپ شرمناک ہے۔

سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی  نے کہا کہ ‏تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اے پی سی کے 5 صفحات اور 32 نکات پرمشتمل طویل اعلامیے میں ہر چھوٹے بڑے، حقیقی اور خیالی مسئلے کا ذکر ہے لیکن پاک بھارت جنگ کے بعد ہونے والے اپوزیشن کے اس پہلے با ضابطہ اجتماع میں بھارت کے خلاف پاکستان کی عظیم فتح اور معرکہ حق کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا گیا۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان اے پی سی کے پانچ صفحات اور 32 نکات پرمشتمل طویل اعلامیے میں ہر چھوٹے بڑے، حقیقی اور خیالی مسئلے کا ذکر ہے لیکن پاک بھارت جنگ کے بعد ہونے والے،اپوزیشن کے اس پہلے با ضابطہ اجتماع میں بھارت کے خلاف پاکستان کی عظیم فتح اور معرکہ حق کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں…

— Senator Irfan Siddiqui (@IrfanUHSiddiqui) August 2, 2025

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج، شہیدوں اور غازیوں سے پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کا بغض اپنی جگہ، لیکن کیا اپوزیشن اتحاد پاکستان اور 25 کروڑ عوام کی فتح کو بھی اپنی فتح نہیں سمجھتا جسے ساری دنیا نے تسلیم کیا ہے؟

عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ بلوچ طلبہ کے حقوق کا تذکرہ اچھی بات ہے لیکن کیا برسوں سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھوں چن چن کر قتل کیے جانے والے پنجابیوں کے خون سے آپ کا کوئی رشتہ نہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں اے پی سی کے اعلامیے پربی ایل اے کی چھاپ شرمناک حد تک واضح ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین عرفان صدیقی پاکستان کی اے پی سی کے نے کہا

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن