پنجاب میں 13 جون تک شدید گرمی اور ہیٹ ویو کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:پنجاب میں گرمی کی لہر آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے (صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) نے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 13 جون تک صوبے بھر میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، خاص طور پر جنوبی پنجاب کے اضلاع میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق آئندہ دنوں میں درجہ حرارت معمول سے 4 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی توقع ہے، جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولپور، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں ہیٹ ویو کی شدت سب سے زیادہ ہو سکتی ہے، جہاں درجہ حرارت انسانی صحت کے لیے خطرناک حد کو چھو سکتا ہے۔
آج صوبے میں سب سے زیادہ درجہ حرارت سرگودھا میں 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ لاہور، ملتان اور فیصل آباد سمیت دیگر میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری کے قریب پہنچ گیا، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال، اوکاڑہ، منڈی بہاؤالدین، خانیوال، قصور، لیہ، جھنگ اور حافظ آباد میں بھی گرمی کی شدت برقرار رہی، جہاں 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق چولستان کے اضلاع میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ تمام سرکاری اسپتالوں میں ہیٹ ویو کاؤنٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں ضروری طبی سہولیات اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے متعلقہ ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور دھوپ میں کام کرنے والے افراد اپنے سروں کو ڈھانپ کر رکھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے ہیٹ ویو
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔