پنجاب میں 13 جون تک شدید گرمی اور ہیٹ ویو کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:پنجاب میں گرمی کی لہر آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے (صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) نے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 13 جون تک صوبے بھر میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، خاص طور پر جنوبی پنجاب کے اضلاع میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق آئندہ دنوں میں درجہ حرارت معمول سے 4 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی توقع ہے، جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولپور، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں ہیٹ ویو کی شدت سب سے زیادہ ہو سکتی ہے، جہاں درجہ حرارت انسانی صحت کے لیے خطرناک حد کو چھو سکتا ہے۔
آج صوبے میں سب سے زیادہ درجہ حرارت سرگودھا میں 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ لاہور، ملتان اور فیصل آباد سمیت دیگر میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری کے قریب پہنچ گیا، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال، اوکاڑہ، منڈی بہاؤالدین، خانیوال، قصور، لیہ، جھنگ اور حافظ آباد میں بھی گرمی کی شدت برقرار رہی، جہاں 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق چولستان کے اضلاع میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ تمام سرکاری اسپتالوں میں ہیٹ ویو کاؤنٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں ضروری طبی سہولیات اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے متعلقہ ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور دھوپ میں کام کرنے والے افراد اپنے سروں کو ڈھانپ کر رکھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے ہیٹ ویو
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی