بیان میں کہا گیا کہ صہیونی ریاست نے ایک بار پھر اسلامی ایران کے خلاف اپنی جارحیت اور دشمنی جاری رکھتے ہوئے آج رہائشی علاقوں میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا کر اپنی ناپاک اور دہشت گردانہ عزائم ظاہر کیے۔ اسلام ٹائمز۔ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے انٹیلی جنس چیف بریگیڈیئر جنرل محمد کاظمی اور ان کے نائب حسن محقق اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی ایران پریس کے مطابق پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ تہران میں آج ہونے والے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں پاسدران انقلاب کے انٹیلی جنس سربراہ محمد کاظمی اور ان کے نائب شہید ہوگئے ہیں۔

پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صہیونی ریاست نے ایک بار پھر اسلامی ایران کے خلاف اپنی جارحیت اور دشمنی جاری رکھتے ہوئے آج رہائشی علاقوں میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا کر اپنی ناپاک اور دہشت گردانہ عزائم ظاہر کیے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ تہران میں آج ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف بریگیڈیئر جنرل محمد کاظمی سمیت ان کے نائب حسن محقق، اور محسن باقری شہید ہوگئے ہیں۔

پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ نے ’آپریشن وعدہ صادق تھری‘ کے تحت اسرائیلی ریاست کے مجرمانہ جرائم کے خلاف جوابی کارروائیوں کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے صہیونی ریاست کے انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنایا۔ آئی آر جی سی کا کہنا تھا کہ اسرائیل حکومت کے حامیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس جعلی حکومت کے مکمل خاتمے تک اس کے اہم مفادات کے خلاف مؤثر اور ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اس سے قبل، پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے ایرو اسپیس کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ کے ہمراہ شہید ہونے والے 7 کمانڈرز کے نام جاری کیے تھے۔ شہدا میں کمانڈرز محمود باقری، داؤد شیخیان، محمد باقر طاہرپور، منصور صفارپور، مسعود طیب، خسرو حسنی، جواد جورسرہ، اور محمد آقاجفری شامل ہیں۔ یہ تمام کمانڈرز جمعہ کی علی الصبح تہران میں اسرائیلی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاسداران انقلاب اسلامی کے انٹیلی جنس محمد کاظمی انقلاب کے کے نائب کے خلاف

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری