ایران کا سپرسانک میزائلوں سے حملہ، حیفہ میں کئی مقامات پر آگ لگ گئی، 15 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
عرب میڈیا کے مطابق ایران کے ہائپرسونک میزائل کے حملے میں اسرائیل میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، متعدد لوگ زخمی ہیں، ہزاروں لوگ زیر زمین جاچکے ہیں، جب کہ اسرائیل میں خوف کا سماں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کی جانب سے دن بھر تہران پر حملوں کے بعد ایران نے پورے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کر دی جس کے نتیجے میں 15 اسرائیلی زخمی ہوگئے اور متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ایران کے میزائل پہنچتے ہی اسرائیل کے تل ابیب، حیفہ اور دیگر شہروں میں سائرن بج اٹھے، شہریوں کو شیلٹرز کی جانب جانے اور اگلے احکام تک وہاں سے نہ نکلنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔
اسرائیل نے اپنے تمام ہوائی اڈے اور فضائی حدود مکمل طور پر بند کردی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل اسرائیل کے کئی مقامات پر ٹکرانے کی اطلاعات کے بعد ایمرجنسی سروسز کو روانہ کیا گیا ہے۔ تازہ ترین حملوں کے نتیجے میں جنوبی اسرائیل میں متعدد شہری زخمی ہوئے ہیں، اور حیفہ میں آگ لگی ہوئی ہے، وہاں بھی کچھ شہری زخمی ہوئے ہیں جب کہ شمالی اسرائیل میں بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، مجموعی طور پر اس حملے میں 15 اسرائیلی زخمی ہوئے۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق ’زکا‘ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شمالی اسرائیل میں ایک عمارت پر براہ راست میزائل ٹکرایا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ایران کے ہائپرسونک میزائل کے حملے میں اسرائیل میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، متعدد لوگ زخمی ہیں، ہزاروں لوگ زیر زمین جاچکے ہیں، جب کہ اسرائیل میں خوف کا سماں ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایران کے حملے کے بعد اسرائیل کی جانب سے وسطی ایران میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ میزائل تنصیبات ہیں۔
تہران ٹائمز کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے کہا ہے کہ یہودی قابضین مقبوضہ علاقے چھوڑدیں، کیوں کہ یہی ان کی بقا کا واحد راستہ ہے، جرائم پیشہ لوگوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسرائیل پر بڑے میزائل حملے کے بعد ایران کے کئی صوبوں میں احواظ دفاعی نظام کو فعال کردیا گیا ہے۔ تہران ٹائمز کے مطابق یہ اقدام انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق ایران کے اسرائیل میں کی جانب سے گیا ہے کے بعد
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔