مسلمانوں اور کشمیری طلباء کو نشانہ بنانے والوں کی ذہنیت دہشت گردوں جیسی ہے، افضال انصاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مودی حکومت ایسے عناصر کی سرپرستی کر رہی ہے جسکی وجہ سے وہ مذہب اور ذات پات کے نام پر غنڈہ گردی کررہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک کے کئی حصوں میں مسلمانوں اور کشمیری طلباء کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نفرت پھیلانے والے سرکاری حمایت یافتہ لوگ دہشت گردوں جیسی ذہنیت رکھتے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ سناتن پانڈے کی رہائشگاہ پر ایک نجی تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے افضال انصاری نے کہا کہ پہلگام واقعہ نریندر مودی کی قیادت والی مودی حکومت کی ناکامی ہے۔ افضال انصاری نے کہا کہ حملے کی جگہ پاکستان کی سرحد سے 150 کلومیٹر دور ہے، دہشت گردوں کو ہندوستانی علاقے میں اتنی گہرائی تک پہنچنے کی جرأت کیسے ہوئی، یہ سخت ردعمل کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اندرونی مداخلت نہیں ہے تو ہندوستان کو جوابی کارروائی کرنی چاہیئے اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کو اپنے طور پر دوبارہ حاصل کرنا چاہیئے۔
بھارت بھر میں مسلمانوں اور کشمیری طلباء پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے لیڈر نے پٹیالہ، پنجاب میں دائیں بازو کے گروپوں کے ارکان کے ذریعہ کشمیری طلباء پر حملے اور ہریانہ میں مسلمانوں کی ملکیتی دکانوں کی توڑ پھوڑ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی طرح کے واقعات کہیں اور بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد جو معصوم شہریوں کو مارتے ہیں اور جو لوگ مذہب اور ذات پات کے نام پر ہندوستان میں نفرت پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی ذہنیت ایک جیسی ہے، اس ملک کے لوگ انہیں پہچاننے لگے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ افضال انصاری نے مزید الزام لگایا کہ جب غیر ملکی دہشت گرد سرحد پار سے حملہ کرتے ہیں، حکومت کی سرپرستی اور تربیت یافتہ نفرت انگیز اور تخریب کار عناصر اندرون ملک تشدد اور دھمکیوں میں ملوث ہیں۔ افضال انصاری نے کہا کہ مودی حکومت ایسے عناصر کی سرپرستی کر رہی ہے جس کی وجہ سے وہ مذہب اور ذات پات کے نام پر غنڈہ گردی کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افضال انصاری نے رکن پارلیمنٹ کشمیری طلباء نے کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.