پہلگام حملے پر مودی سرکار کے پاکستان پر بے بنیاد الزام عائد کرنے کے بعد اب بھارت کو اپنے بچکانہ اقدامات کے باعث ہر جگہ سے خفگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مودی سرکار کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے متعدد پاکستانی کرکٹرز اور فنکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کردیئے گئے ہیں۔

جن پاکستانی اداکاراؤں کے بھارت میں انسٹاگرام اکاؤنٹس بند کیے گئے ہیں اُن میں معروف اداکارہ اور میزبان اُشنا شاہ بھی شامل ہیں۔

حسِ مزاح سے بھرپور اداکارہ اُشنا شاہ نے بھارتی حکومت کے اس بچکانہ اور مضحکہ خیز اقدام کا دلچسپ پیرائے میں جواب دیا ہے۔

اُشنا شاہ نے طنزاً لکھا کہ ’میری دنیا ہی اُجڑ گئی ابھی، مودی جی یہ کیا کر دیا‘۔ اداکارہ نے ٹوٹے دل اور رونے کے ایموجیز بھی استعمال کیں۔

پُرمزاح انداز میں اشنا شاہ کے اس طنزیہ وار کو سوشل میڈیا نے کافی سراہا اور ایک صارف نے لکھا کہ کاش یہ طنز مودی کو سمجھ میں آجائے۔

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ آپ جنھیں سمجھا رہی ہیں وہ عقل کے کچے ہیں اور اگر نہیں ہوتے تو کبھی یہ مضحکہ خیز کام نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ بھارت میں ماہرہ خان، ہانیہ عامر اور علی ظفر متعدد فنکاروں کے سوشل میڈیا اکاوٗنٹس بند کردیئے گئے ہیں۔

اس سے قبل مودی سرکار نے بھارت میں مقبول پاکستانی کرکٹرز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کردیئے تھے۔

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی علاقے پہلگام میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے دو درجن سے زائد سیاحوں کو ہلاک کردیا تھا۔

مودی سرکار نے اس واقعے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کرنے کی کوشش کی جو بری برح ناکام ہوئی۔ خود بھارتی عوام مودی کی من گھڑت کہانیوں کو ماننے کو تیار نہیں۔

جس پر ہونے والی خفگی اور ہزیمت کو مٹانے کے لیے مودی سرکار نے ایسے مضحکہ اقدامات اُٹھانے شروع کردیئے جس سے مزید جگ ہنسائی ہورہی ہے۔

 

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا مودی سرکار بھارت میں ا شنا شاہ

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی