والدین کو فون کرکے میری موت کا پوچھا جا رہا ہے؛ علیزے شاہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
ماڈل اور اداکارہ علیزے شاہ نے کہا ہے کہ اب چیزیں برداشت سے باہر ہوچکی ہیں، سوشل میڈیا صارفین کا رویہ ناقابل برداشت ہوگیا۔
علیزے شاہ نے سوشل میڈیا کو خیرباد کہہ دیا تھا لیکن آج انھوں نے ایک پوسٹ میں نہایت غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین کے برتاؤ پر افسوس کا اظہار کا ہے۔
علیزے شاہ نے کہا کہ میڈیا والے میرے والدین کو فون کرکے ان سے میری موت کے بارے میں سوال کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ کافی تکلیف دہ بات ہے۔ ایسی باتوں سے میں پہلے ہی ذہنی اذیت اور کوفت میں مبتلا تھی اور اب تو جسمانی تکلیف میں بھی مبتلا ہوچکی ہوں۔
علیزے شاہ نے کہا کہ جن میں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے تمام چیزیں ہٹا دی تھیں تب بھی اپنئی بائیو میں لکھا تھا کہ زندہ ہوں۔لیکن اس کے باوجود افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ صرف سوشل میڈیا بلکہ اب میڈیا میں بھی واپس نہیں آئیں گی۔ چیزیں اب برداشت سے باہر ہوگئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علیزے شاہ نے سوشل میڈیا کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔