والدین کو فون کرکے میری موت کا پوچھا جا رہا ہے؛ علیزے شاہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
ماڈل اور اداکارہ علیزے شاہ نے کہا ہے کہ اب چیزیں برداشت سے باہر ہوچکی ہیں، سوشل میڈیا صارفین کا رویہ ناقابل برداشت ہوگیا۔
علیزے شاہ نے سوشل میڈیا کو خیرباد کہہ دیا تھا لیکن آج انھوں نے ایک پوسٹ میں نہایت غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین کے برتاؤ پر افسوس کا اظہار کا ہے۔
علیزے شاہ نے کہا کہ میڈیا والے میرے والدین کو فون کرکے ان سے میری موت کے بارے میں سوال کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ کافی تکلیف دہ بات ہے۔ ایسی باتوں سے میں پہلے ہی ذہنی اذیت اور کوفت میں مبتلا تھی اور اب تو جسمانی تکلیف میں بھی مبتلا ہوچکی ہوں۔
علیزے شاہ نے کہا کہ جن میں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے تمام چیزیں ہٹا دی تھیں تب بھی اپنئی بائیو میں لکھا تھا کہ زندہ ہوں۔لیکن اس کے باوجود افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ صرف سوشل میڈیا بلکہ اب میڈیا میں بھی واپس نہیں آئیں گی۔ چیزیں اب برداشت سے باہر ہوگئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علیزے شاہ نے سوشل میڈیا کہا کہ
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔