پہلگام فالس فلیگ آپریش: ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
پہلگام فالس فلیگ/سوشل میڈیا پر ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا جب کہ بھارت کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور دھمکیوں کے جواب میں مسلح افواج اور عوام متحد ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی زوردار پریس کانفرنس نے بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دیدیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’ہم تیار ہیں ، آزمانا نہیں، 2019ء میں ہم نے یہی بتایا تھا‘‘ ہم وہ نہیں جو محاذ آرائی شروع کریں، ہم ذمہ دار ملک ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر وہ(دشمن) یہ سمجھتا ہے کہ جارحیت ہی راستہ ہے تو ہم تیار ہیں ، اس کی آزمائش نہ کریں، ہم نے ہر ڈومین میں جوابی کارروائی کے اقدامات مکمل کرلیے ہیں، ہم ہر وقت اور ہر جگہ تیار ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنی خودمختاری اور سالمیت کا ہرقیمت پر دفاع کرے گی، فوجی تصادم کا راستہ بھارت نے چنا تو یہ اس کی چوائس ہے، آگے یہ معاملہ کدھر جاتا ہے تو یہ پھر ہماری چوائس ہے، ہم بار بار بتا رہے ہیں ہم تیار ہیں ہمیں آزمانا نہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا پیغام’’ہم تیار ہیں، ہمیں آزمانا نہیں‘‘ عوام کی آواز بن گیا، تمام سوشل میڈیا صارفین نے اس بیان کو راتوں رات پاپولر ہیش ٹیگ بنا دیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے یہ الفاظ سوشل میڈیا پر وائرل ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر ا زمانا نہیں ہم تیار ہیں سوشل میڈیا
پڑھیں:
کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔
صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔