ٹرمپ انتظامیہ میں بڑی تبدیلی ، صدرٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کو برطرف کردیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
لندن (اوصاف نیوز)برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کو عہدے سے ہٹا دیا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں والٹز کی خدمات کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ ان کی جگہ وقتی طور پر وزیر خارجہ مارکو روبیو کو قومی سلامتی کے مشیر کا اضافی چارج دیا گیا ہے، جو بدستور امریکا کے اعلیٰ ترین سفارتکار کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے مائیک والٹز کو اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر کے طور پر نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ یمن حملوں کی منصوبہ بندی سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے اسکینڈل پر مائیک والٹز کو سخت تنقید کا سامنا تھا۔
اس سے قبل رپورٹ سامنے آرہی تھیں کہ مائیک والٹز جلد عہدے سے مستعفیٰ ہوجائیں گے۔وائٹ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا تھا کہ مائیک والٹز کے نائب الیکس وونگ بھی استعفیٰ دیں گے۔
مشی گن میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت کے100 دن مکمل ہونے پر جشن مناتے ہوئے ریلی سے خطاب میں کہا تھا کہ ہم نے ابھی شروعات کی ہے، ملکی تاریخ کے سب سے کامیاب 100 دن مکمل ہونے کا جشن منانے پر خوش ہوں۔
آزادکشمیر : ایمرجنسی رسپانس فنڈ قائم،وزیراعظم کا 200رضاکار بھرتی کرنے کا فیصلہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔