بھارت کی جانب سے پاکستانی یو ٹیوبرز اور نجی ٹیلی ویژن چینلز کے یوٹیوب چینلز کو اپنے ملک میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی شوبز شخصیات پر پابندی اور ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹس کو بھی بلاک کیا گیا ہے۔

بھارت کی جانب سے ایسے اقدامات کیے جانے کے بعد کئی بھارتی صارفین اداس نظر آئے کہ اب وہ اپنے پسندیدہ پاکستانی ڈرامے نہیں دیکھ سکیں گے۔ جس پر پاکستانیوں نے بھارتی مداحوں کو ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’حملہ آور مذہب پوچھے بغیر گولیاں چلاتے رہے‘، پہلگام حملے سے متعلق ایک اور بھارتی جھوٹ بے نقاب

سوشل میڈیا پر کئی ایسی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جس میں بھارتی صارف کہتے نظر آ رہے ہیں کہ وہ پاکستانی ڈرامے دیکھتے تھے جو اب انڈیا میں بند کر دیے گئے ہیں جس سے وہ پریشان ہیں۔ جس پر پاکستانی صارفین دلچسپ تبصرے کرتے نظر آ رہے ہیں۔

ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارتی مداح اپنی والدہ سے پوچھتی ہیں کہ پاکستانی ڈرامے بند کر دیے گئے ہیں اب آپ اپنی زندگی میں کیا کریں گی جس پر وہ کہتی ہیں کہ ’بہت مشکل ہے، مجھے تو نانی ماں کی فکر ہو رہی ہے کہ ان کی زندگی کیسے گزرے گی‘۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Kaynaat Kapoor (@_.

misskapoor_)

خاتون مداح نے کہا کہ وہ اپنا پسندیدہ ڈرامہ ’نقاب‘ دیکھ رہی تھیں جو اب کہیں پر نہیں آ رہا۔ اس پر ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارتیوں سے بالکل بھی نفرت نہیں کرتے اس لیے آپ وی پی این کا استعمال کریں شاید اس سے ڈرامہ لگ جائے۔

زوحا نامی صارف لکھتی ہیں کہ ’ممی کو ہم پاکستان سے اسکرین ریکارڈ کر کے بھیج دیں گے‘۔ جبکہ ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ مسلمانوں سے زیادہ ہندو پاکستانی ڈرامے دیکھتے ہیں۔ سمیرا حمید نے کہا کہ ’ہم ممی کو لائیو ویڈیو کال پر ڈرامہ دکھا دیں گے‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈیا پاکستانی ڈرامے پہلگام حملہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انڈیا پاکستانی ڈرامے پہلگام حملہ پاکستانی ڈرامے ہیں کہ

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے