صدر اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات، ملکی خودمختاری پر سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کے جارحانہ رویہ اور اشتعال انگیز بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
جمعرات کو ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات ہوئی جس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شریک تھے۔
ملاقات میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے بھارت کے جارحانہ رویہ اور اشتعال انگیز بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ملاقات میں بھارتی جارحانہ رویے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت پر پاکستان کے ردعمل کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بھارتی رویے سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے، پاکستان علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا، پاکستانی قوم متحد ہے اور اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ افواج پاکستان کسی بھی خطرے یا جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ملاقات میں پہلگام واقعے پر بغیر کسی تحقیقات کے لگائے گئے بھارتی الزامات پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے اور بے پناہ انسانی اور معاشی نقصانات اٹھانا پڑا، عالمی برادری پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا نوٹس لے اور بھارت کی جانب پاکستان میں عسکریت پسند بھیجنے ، ان کی فنڈنگ اور تربیت کا نوٹس لیا جائے۔
صدر مملکت نے بھارتی بے بنیاد الزامات پر حکومتی ردعمل اور ذمہ دارای کیساتھ صورتحال سے نمٹنے کو سراہا اور کہا کہ پاکستان ہر قیمت پر اپنی خودمختاری ،علاقائی سالمیت اور اہم قومی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
ملاقات میں کشمیری عوام کے حق ِخودارادیت کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر فوری عمل درآمد کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیر اعظم نے کوویڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے بعد صدر مملکت کی صحت بارے بھی دریافت کیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ملاقات میں صدر مملکت بھارت کے کیا گیا
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔