وزیراعلیٰ پنجاب کی لاہورڈویلپمنٹ پلان کے لیے ماہانہ ٹائم لائن مقررکرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں لاہور ڈویلپمنٹ پلان پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد سینیئر صوبائی وزیر اور چیف سیکریٹری پنجاب کو لاہور ڈویلپمنٹ کی بروقت تکمیل کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔
لاہور ڈویلپمنٹ پلان کے پہلے فیز کا مرحلہ وار جائزہ لینے کے بعد وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پراجیکٹس کا تصویری معائنہ بھی کیا، انہوں نے لاہور ڈویلپمنٹ پلان کے لیے ماہانہ ٹائم لائن مقررکرنے کی ہدایت بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا لاہور کو 3 دن کے اندر صاف ستھرا کرنے کا حکم
اس ضمن میں مریم نوازشریف کا کہنا تھا کہ ترقیاتی اسکیموں کی تکمیل میں تاخیر سے عوام کی روزمرہ زندگی متاثرہوتی ہے، خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتی ہوں، مشکل میں نہیں دیکھ سکتی۔
میونسپل کارپوریشن لاہور کی 3705 اور واسا کے زیر اہتمام230 اسٹریٹس کی تعمیر و بحالی کے لیے 30جون کی ڈیڈ لائن، واسا ورکس کے لیے 1573 گلیوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 31 جولائی کی حتمی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: ’مریم نواز‘ سے منسوب زیر تعمیر اسکیم کا نام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا
لاہور ڈویلپمنٹ پلان فیز 2 میں علامہ اقبال، عزیز بھٹی اور واہگہ ٹاؤن میں گلیوں کی تعمیر ومرمت اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب ترقیاتی اسکیموں چیف سیکریٹری ڈیڈ لائن لاہور ڈیولپمنٹ پلان ماہانہ ٹائم لائن مریم نوازشریف وزیر اعلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ترقیاتی اسکیموں چیف سیکریٹری ڈیڈ لائن مریم نوازشریف وزیر اعلی کے لیے
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔