سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک کا نظام چلانے کا نسخہ بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ شفاف الیکشن کروادیں، ملک کا نظام چل پڑے گا، پاکستان کے ہر مسئلے کے حل کی حقیقت قانون کی حکمرانی میں ملے گی۔کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ بار روم سے خطاب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک کے مسائل کی تو بات کی جاتی ہے، مگر ان کےحل کی بات نہیں کی جاتی، ہماری جماعت کا مقصد مسائل کے حل کے لیے بات کرنا ہے، ہمارا مقصد پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ناانصافی ملک کی جڑ کو کھوکھلا کردیتی ہے، جب آئین کو پامال کیا جاتا ہے تو انصاف کیسے رہے گا، انصاف نہ ہونے کی وجہ سے آج کا نوجوان مایوسی کاشکار ہے۔
عمر ایوب کی کامیابی کیخلاف درخواست الیکشن کمیشن میں سماعت کیلئے مقرر
ان کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک آئین کے مطابق نہیں چل رہا، ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی نہیں، اگر آپ کو پسند نہیں ہے تو آئین بدل دیں، مائن اینڈ منرل ایکٹ اگر آئین سے متصادم ہے تو وہ غلط ہے، آئین کے اندر جو حقوق صوبے کو دیے گئے ہیں وہ دیے جانے چاہئیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ وسائل اور آئین میں دیے گئے حقوق کے اعتبار سے بلوچستان کو سب سے امیر صوبہ ہونا چاہیے، بلوچستان کے عوام کو یہ بتایا جائے کہ ان کو ریکوڈک سے کیا ملے گا، مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر بلوچستان میں بحث ہونی چاہیے تھی، مگر بل کو پاس کردیا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے زیراہتمام مولانا حامد الحق حقانی شہید تعزیتی ریفرنس اور یکجہتی فلسطین کانفرنس
انہوں نے سوال اتھایا کہ کیا یہاں لوگ 70 کروڑ روپے دے کر سینیٹر نہیں بنے، ہم کرپٹ لوگوں کو سینیٹ میں بھیجیں گے اور پھر توقع کریں کہ ملک چلے گا، یہ خام خیالی ہے کہ ایسے لوگ ملک اور صوبے کے مسائل حل کریں گے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ گوادر میں پانی اور بجلی کی فراہمی کی ذمے داری پوری نہیں کی گئی، یہ ہماری ترقی ہے کہ یہاں سے تیل اسمگل ہو کر پورے پاکستان میں جاتا ہے، ایل پی جی اور دیگر چیزوں کی اسمگلنگ الگ ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ وفاق کے بغیر صوبہ ترقی نہیں کرسکے گا۔
شاہد خاقان کا کہنا ہے کہ یہ پتا ہونا چاہیے کہ بلوچستان میں لیز کس کو اور کس بنیاد پر دی گئی؟ 70 سال میں ہم نے بلوچستان کے ساحل کا ایک انچ بھی ڈویلپ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر غیر نمائندہ حکومتیں آئیں گی تو حالات درست نہیں ہوسکیں گے، ملک کے معاملات عوام کی تائید والے سیاستدانوں نے حل کرنا ہیں، ہم سب اس بات کے جوابدہ ہیں کہ بلوچستان اور پاکستان کے حالات اس نہج پر کیوں ہیں۔
لاہور میں بھائیوں نے غیرت کے نام پر اپنی ماں اور بہن کو گلا کاٹ کر قتل کر دیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شاہد خاقان نے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز