نواز شریف سے عرفان صدیقی کی ملاقات، سینیٹ میں پارٹی کارکردگی پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
نواز شریف سے عرفان صدیقی کی ملاقات، سینیٹ میں پارٹی کارکردگی پر گفتگو WhatsAppFacebookTwitter 0 2 May, 2025 سب نیوز
لاہور (سب نیوز)صدر ن لیگ نوازشریف سے سینیٹر عرفان صدیقی نے جاتی امرا میں ملاقات کی۔ عرفان صدیقی نے نواز شریف کو سینیٹ میں پارلیمانی پارٹی کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، پارلیمنٹیرینز کے کردار سے قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا، عوام میں بھی اتفاق و اتحاد کی فضا پیدا ہوگی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سے سینیٹر عرفان صدیقی نے جاتی امرا میں اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران عرفان صدیقی نے سینیٹ میں مسلم لیگ (ن)کی پارلیمانی پارٹی کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق عرفان صدیقی نے بتایا کہ حالیہ قرارداد کی تیاری اور اس کی منظوری میں تمام سیاسی جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا، جس سے پارلیمانی تعاون کو فروغ ملا۔اس موقع پر نواز شریف نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے اور پارلیمنٹیرینز کے مثبت کردار سے قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام میں بھی اتفاق و اتحاد کی فضا پیدا ہوگی، جو ملکی استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس، مجموعی کارکردگی کا جائزہ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس، مجموعی کارکردگی کا جائزہ پی ٹی آئی 26 نومبر احتجاج: 82 ملزمان کا اعتراف جرم، عدالت نے سزا سنادی افراط زر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پا لیا: وفاقی وزیر خزانہ وزیراعظم سے سعودی سفیر کی ملاقات، خطے میں امن کیلئے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کی یقین دہانی قومی اتحاد و یکجہتی کے لیے پارلیمنٹ کا کردار قابل تحسین ہے، نواز شریف ایک سو نوے ملین پائونڈ کیس:عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کےلئے مقررCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عرفان صدیقی نواز شریف سینیٹ میں شریف سے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔