غزہ کے شہریوں کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری جہاز پر مالٹا کے قریب ڈرون سے بمباری کا نشانہ بنادیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں امدادی کاموں پر اسرائیلی پابندیوں کے خلاف عالمی عدالت میں سماعت کا آغاز

گارجین کی رپورٹ کے مطابق فلاحی تنظیم فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا دعویٰ ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں غیر مسلح شہری جہاز پر مبینہ طور پر اسرائیل نے حملہ کیا۔

منتظمین نے بتایا ہے کہ غزہ کے لیے انسانی امداد اور کارکنوں کو لے جانے والے جہاز کو مالٹا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اس وقت ڈرون مارکر ناکارہ بنادیا گیا جب وہ فلسطینی سرزمین کی طرف بڑھ رہا تھا۔

گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا جہاز، بین الاقوامی سمندری حدود میں براہ راست حملے کی زد میں آیا۔

بیان کے مطابق مسلح ڈرونز نے غیر مسلح شہری جہاز کے اگلے حصے پر 2 بار حملہ کیا جس سے اس میں آگ لگ گئی اور بہت بڑا شگاف پڑ گیا۔ بیان میں اس حملے کا الزام واضح طور پر اسرائیل پر عائد کیا گیا۔

غزہ کے لیے امدادی سامان اور رضا کاروں کو لے جانے والے بحری جہاز پر ڈرون کے ذریعے بمباری کیے جانے کے بعد تنظیم کی جانب سے جہاز پر لگی آگ کی ویڈیو بھی شیئر کی گئی۔ حملے کی وجہ سے فلاحی ورکرز والا جہاز ڈوبنے کے خطرے سے دوچار ہے۔

مزید پڑھیے: اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ ابتک کتنے لاکھ فلسطینی بے گھر ہو ئے؟ اقوام متحدہ نے بتا دیا

دریں اثنا مالٹا کی حکومت نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ عملے کے 12 ارکان اور 4 سویلین مسافر سوار تھے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جہاز کی مدد کے لیے قریبی ٹگ کو ہدایت کردی گئی ہے۔

فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا کہنا ہے کہ 21 ممالک کے کارکن اسرائیل کے غزہ کے غیر قانونی اور مہلک محاصرے کو چیلنج کرنے اور زندگی بچانے والی اشد ضرورت کی امداد فراہم کرنے کے مشن پر گامزن تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی سفیروں کو طلب کیا جانا چاہیے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں، ناکہ بندیوں اور بحری جہاز پر حملے کا جواب لیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: امدادی کارکنوں کی شہادت، غزہ کے شہری دفاع نے اسرائیلی فوج کی تحقیقات مسترد کردیں

یاد رہے کہ اسرائیل نے 2 ماہ قبل غزہ پر سخت ناکہ بندی کر دی تھی جس میں خوراک، ایندھن، ادویات یا دیگر اشیا کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی جس سے غزہ کے شہری صحت کے مسائل اور قحط کا شکار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امدادی بحری جہاز پر حملہ امدادی جہاز تباہ غزہ مالٹا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امدادی بحری جہاز پر حملہ امدادی جہاز تباہ مالٹا بین الاقوامی بحری جہاز پر غزہ کے کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا