خیبر پختونخوا: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 5 خوارج ہلاک، 2 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے 30 اپریل اور یکم مئی کو خیبرپختونخوا میں 3 کارروائیوں کے دوران 5 خوارج کو ہلاک اور 2 کو گرفتار کر لیا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ضلع باجوڑ میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس آپریشن کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے خفیہ اطلاعات پر آپریشنز میں ضلع کرک میں 8، شمالی وزیرستان میں 4 اور جنوبی وزیرستان کے علاقے گومل زام میں 3 خوارج مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق باجوڑ کارروائی میں ہائی ویلیو ٹارگٹ خارجی فرید اللّٰہ سمیت 3 خوارج کو ہلاک کر دیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز ایس پی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔