عسکری ٹاور حملہ سمیت تین مقدمات,عمر ایوب کی عبوری ضمانت میں 26 مئی تک توسیع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
جمال الدین : انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور حملہ سمیت تین مقدمات میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی عبوری ضمانت میں 26 مئی تک توسیع کر دی۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے سماعت کی۔ عمرا یوب عدالت میں پیش ہوئے۔ پولیس نے جناح ہاؤس حملہ کیس ریکارڈ پیش کرنے کیلئے مہلت طلب کی ۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ جناح ہاؤس کیس کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں ہے، جہاں شریک ملزمان کی ضمانت کیخلاف اپیل زیر سماعت ہے ۔ عدالت نے پراسیکیوٹر کے بیان کے بعد سماعت ملتوی کر دی ۔ عمر ایوب نے جناح ہاؤس حملہ، عسکری ٹاور حملہ ، تھانہ شادماں نذر آتش کیس میں عبوری ضمانتیں دائر کر رکھی ہیں۔ عدالت نے جناح ہاوس سمیت چار مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما حافط فرحت کی عبوری ضمانت میں بھی 26 مئی تک توسیع کر دی ۔
قصور : پسند کی شادی نہ ہونے پراپنےہی گھر کا صفایا کرنے والی لڑکی پکڑی گئی
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: جناح ہاؤس
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔