عوام ہوشیار ! یہ انجکشن ہرگز نہ خریدیں!
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے امراض خون کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے انجکشن کیلئے الرٹ جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے جعلی امپورٹڈ دوا کی فروخت پر ایکشن لیتے ہوئے امراض خون کے جعلی انجکشن کی سیل و استعمال پر پابندی لگا دی۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے روہپیلک انجکشن کا ریپڈ الرٹ جاری کر دیا، جس میں کہا ہے کہ روہپیلک ہیومن اینٹی ڈی ایمیونوگلوبولن کی دوا ہے، انجکشن سوئس کمپنی سی ایس ایل بیہرنگ کا تیارکردہ ہے۔
ڈرگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے جعلی روہپیلک انجکشن کی اطلاع دی ہے، ملک بھر کی میڈیسن مارکیٹ میں جعلی انجکشن دستیاب ہے،انجکشن کا بیچ 100669751 P جعلی ہے۔
ڈریپ کا کہنا تھا کہ انجکشن سیمپل کے لیبل پر جعلی تفصیلات درج ہیں، جعلی انجکشن لیبل پر سی ایس ایل سوئٹزرلینڈ کا پتہ درج ہے،سٹیریلیٹی ٹیسٹ میں روہپیلک انجکشن غیر معیاری قرار پایا ہے، ڈریپ
اینٹی ڈی ایمیونوگلوبولن کمرشل بائیولوجیکل اینٹی باڈی ہے،اینٹی ڈی ایمیونوگلوبولن انسانی خون کے پلازمہ سے لیا جاتا ہے، اینٹی ڈی ایمیونوگلوبولن مریض کے سرخ خلیات ٹارگٹ کرتا ہے۔
روہپیلک ایمیون تھرمو سائیٹوفینک پرپرا نامی مرض کی دوا ہے، جعلی انجکشن کا استعمال انتہائی مضر صحت ہو سکتا ہے،جعلی ادویات کا معیار اور افادیت غیر واضح ہوتی ہے، ڈریپ الرٹ
ڈریپ نے نیشنل ریگولیٹری فیلڈ فورس کو مارکیٹ سرویلنس بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹری فورس مارکیٹ سے روہپیلک انجکشن کا جعلی بیچ ضبط کرے اور فارمیسیز روہپیلک انجکشن کے جعلی بیچ کی سیل فوری ترک کریں ساتھ ہی ڈاکٹرز اور مریض روہپیلک انجکشن کا متاثرہ بیچ استعمال نہ کریں۔
مزیدپڑھیں:خبردار ! اس دواکا استعمال ہرگز نہ کریں!ڈریپ الرٹ جاری
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: جعلی انجکشن انجکشن کا
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :