واہگہ بارڈر، قومی پرچم اتارنے کی تقریب، فضا جیوے پاکستان کے نعروں سے گونجتی رہی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
لاہور میں واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں ملی جوش و جذبے سے بھرپور پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز پاکستان کے قومی ترانے سے ہوا جس کے بعد پاکستان رینجرز کے باہمت اور کڑیل جوانوں نے پریڈ کی۔ اسلام ٹائمز۔ واہگہ بارڈر پر قومی پرچم اتارنے کی پروقار تقریب ہوئی جس میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی جب کہ واہگہ بارڈر کی فضا نعرہ تکبیر اور جیوے پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھی۔ لاہور میں واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں ملی جوش و جذبے سے بھرپور پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز پاکستان کے قومی ترانے سے ہوا جس کے بعد پاکستان رینجرز کے باہمت اور کڑیل جوانوں نے پریڈ کی، پاکستان اور بھارتی رینجرز کے سرحدی محافظ پریڈ کے دوران ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔
تقریب کے دوران نوجوان، بزرگ، بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی، جو رینجرز کی پریڈ کے دوران اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے رہے۔ یاد رہے کہ واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب کے دوران رینجرز کے جوان پریڈ کرتے ہیں اور ہمسایہ ملک کی بارڈر سکیورٹی فورس کو اپنے روایتی انداز میں اپنی طاقت دکھاتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پرچم اتارنے کی واہگہ بارڈر پر کی بڑی تعداد پاکستان کے رینجرز کے کے دوران
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔