Express News:
2026-06-03@05:57:37 GMT

مودی کے عزائم

اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT

پانچ سال کا عرصہ بھی شاید نہیں ہوا ہوگا کہ ہندوستان اور پاکستان ایک بار پھرآمنے سامنے ہیں، جب کہ ہندوستان کے عوام اپنی داخلی سیاست کے اس بیانیہ سے سخت نالاں ہیں جو ہندوستان کی سیاست میں انتہا پرست سوچ کو مضبوط کر رہا ہے۔ یہ بیانیہ زور پکڑتا ہے جب خاص کر مودی صاحب اقتدار کی کرسی پر برا جمان ہوں۔

نریندر مودی تیسری بار وزیرِ اعظم بنے ہیں مگر اس دفعہ ان کی کامیابی دو تہائی اکثریت سے نہیں ہوئی بلکہ دیکھا جائے تو وہ جیتے ہی نہیں ہیں۔ ان کی حکومت ایک اتحادی حکومت ہے اور وہ ہیں کہ پھر سے اس نفرت انگیز بیانیہ کو زندہ کرنا چاہتے ہیں اور ایک ایسے وقت میں جب دنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے جس کا ذکر میں اپنے کالم میں پہلے ہی کرچکا ہوں۔

مودی صاحب امریکی صدر ٹرمپ کے سب سے بڑے اتحادی ہیں، وہ امریکن کمپنیاں جوکل تک اپنے پراڈکٹ کی اسمبلنگ چین میں کرتی تھیں، اب وہ ہندوستان منتقل ہو رہی ہیں۔ صف بندی میں وہ نہ صرف ہندوستان بلکہ امریکا میں بھی ہمارے خلاف لابنگ کررہی ہیں۔

پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے مگر یہ ایک سازش ہے اور اس کا تمام فائدہ جس طرح سے ہندوستان لینا چاہتا ہے وہ نظر آ رہا ہے۔ ایسٹ ایشیاء کا کوئی ایسا ملک نہیں جو اس وقت بدترین دہشت گردی کا شکار ہو، سوائے پاکستان کے۔ ہمارے فوجی جوان پہ در پہ اپنی زندگیوں کا نذرانہ پیش کرتے جا رہے ہیں اور یہ بات بھی دنیا پر عیاں ہے کہ پاکستان میں اس دہشت گردی کے پیچھے بلواسطہ یا پھر بلواسطہ ہندوستان کا ہاتھ ہے۔

کلدیپ نیر اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ ’’ولبھ بھائی پٹیل بارہا نہرو کو یہ سمجھاتے رہے کہ کشمیرکو اپنا حصہ مت بناؤ لیکن چونکہ نہرو کے اجداد کشمیر سے تعلق رکھتے تھے اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو برِصغیر کے آخری وائسرائے تھے، ان کی بیوی نہرو سے بہت قریب تھیں، لہٰذا کشمیر کا ملنا ان کے لیے ایک ضد تھی۔

سر ریڈ کلف نے جس طرح سے ہندوستان اور پاکستان کا بٹوارہ کیا، وہ انتہائی غیر منصفانہ تھا۔ ہندوستان کے آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیرکو خود مختاری کا حق دیتا ہے جو ہندوستان کی کسی ریاست کو میسر نہیں۔ دو تہائی اکثریت کا لبادہ اوڑھ کر مودی نے ہندوستانی آئین سے اس شق کو ختم کیا جب کہ اس آرٹیکل کو ختم کرنے کا حق صرف کشمیرکے عوام کو حاصل تھا اور طریقہ کار یہ تھا کہ اس کا فیصلہ کشمیر کے لوگ خود کریں گے کہ وہ ہندوستان کا حصہ بننا بھی چاہتے ہیں کہ نہیں۔

مودی کی ہندوستان کی داخلی سیاست میں ہمیشہ یہ پالیسی رہی کہ وہ کشمیر میں اپنی ناکامیوں کو ذمے دار پاکستان کو ٹھہراتا ہے۔ اس خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئیں اور مذاکرات کے ذریعے اپنے معاملات کو سلجھائیں۔

ہندوستان میں مودی کی حمایت اکثریتی نہیں۔ وہاں کے عوام اس بات کو بہ خوبی جانتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ سرگرمیاں پاکستان کی نہیں بلکہ یہ ان کی سرکار ہے۔ کل تک یہی ماجرا پاکستان میں بھی تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کے بیچ تضادات کو بڑھاوا دے کر اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی تھی مگر اب ایسا ممکن نہ رہا۔ ہندوستان اور پاکستان کے عوام میں دوریاں نہیں، دوریاں ان دونوں ممالک کی حکومتوں میں ہیں۔

اس وقت پاکستان میں بڑی انقلابی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ پاکستان نے سرد جنگ والی افغان پالیسی کو ختم کردیا ہے جو چالیس سال سے ہمارے ملک پر مسلط تھی اور اب وہ ہی لوگ ہمارے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ہندوستان اس جنگ کو بڑھا وا دے سکتا ہے۔ ہم ہندوستان کے حملے کی مذمت کرسکتے ہیں اور یہ بھی درست ہوگا اگر ہم ہندوستا ن کے خلاف جوابی کارروائی کریں لیکن ایسا کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا کہ ہم اپنا بیانیہ اتنی تیزی سے تبدیل کریں۔ ہمیں دنیا کو یہ باورکروانا ہے کس طرح ہندوستان اپنا بیانیہ پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور اس ضمن میں اپنی افواج کو بھی حرکت میں لا چکا ہے۔

ہماری داخلی سیاست کا ہمیشہ دشمن نے فائدہ اٹھایا۔ اس وقت پاکستان کی معاشی صورتحال ماضی سے بہتر ہے۔ پاکستانی عوام اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور یقینا اس رشتے کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

وقت اور حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ اس وقت ہم سندھ طاس معاہدے کو بحال کرائیں مگرکیسے؟ یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ہندوستان ختم نہیں کرسکتا مگر اس معاملے میں ہمیں انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پانی زندگی کی بقاء ہے۔ ہندوستان کے پاس ایسا کو ئی ذریعہ یا پھر نظام نہیں کہ وہ پاکستان کا پانی روک سکے اور اگر ایسا کوئی قدم ہندوستان نے اٹھایا تو بین الاقوامی قوانین یقینا ہمارے حق میں ہوںگے۔

پاکستان کی حکمتِ عملی کو زمینی حقائق کی ضرورت ہے اور انھیں حقائق پر مبنی پاکستان اپنی حکمتِ عملی جوڑے گا اور اس کی اولین ضرورت یہ ہے کہ تمام سیاسی لیڈران کو اعتماد میں لیا جائے۔ ملک کے اندر جو بھی تضادات پنپ رہے ہیں ان کو ختم کیا جائے۔ ہمیں یہ چیلنجز مستقبل قریب تک رہیں گے۔

ان تمام باتوں کا واحد حل ہے مستحکم پاکستان، سیاسی، معاشی اور وفاقی اعتبار سے ہم آہنگی۔ مودی کی پالیسیز کا جواب ان کو پچھلے الیکشن میں مل گیا تھا۔ مودی کی انتہا پرستی پر مبنی حکمتِ عملی لوگوں کو پسند بھی نہیں۔ پاکستان کے خلاف ایک مخصوص بین الاقوامی سوچ ہے اور اس کو بڑھاوا دینے والی مودی سرکار۔ ہمیں ضرورت ہے ان دوستوں کی جو ہمارا مسئلہ سمجھتے ہوں اور عالمِ اقوام کے سامنے ہماری وکالت کریں۔

ہمیں مسئلہ کشمیر اور اس کے تضادات دنیا کے سامنے لانے ہیں کہ کس کس طرح یہاں ہندوستان بربریت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم ان کی اخلاقی اور سیاسی امداد کرتے رہیں گے جب کہ اپنے حقوق کی جنگ وہ خود لڑ رہے ہیں۔ پہلگام جیسے واقعات ان کی جدوجہد میں بھی رکاوٹ ہیں بلکہ یہ کشمیر کے لو گوں کے خلاف سازش ہے۔

وقت کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ ان لوگوں کو ہندوستان کے اندر شکست ہوگی جو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تضادات کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ جس طرح سے مودی کو پچھلے الیکشن میں ہوئی تھی باوجود اس کے کہ مودی نے ہندوستان کی معیشت کیسے سنبھالا۔ ان دونوں ممالک کے درمیان امن ، یہاں خوش حالی کا ضامن ہے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور ان دونوں ممالک کے عوام نہیں چاہتے کہ یہ جنگ ان پر مسلط کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہندوستان کی ہندوستان کے دونوں ممالک پاکستان کے کے عوام ہیں اور مودی کی کے خلاف ہیں کہ ہے اور اور اس کو ختم

پڑھیں:

جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم

سٹی 42: علیمہ خانم  نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک  کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے

علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔

جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔

بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات  ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔

افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،

ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں