پولیس کے شہدا کو خراج عقیدت، 4 اگست کا دن ملک کی داخلی سلامتی کے نگہبانوں کے نام جنہوں نے اپنی قیمتی جانیں قربان کرکے ریاستی عملداری کو یقینی بنایا، وزیر داخلہ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 اگست2025ء) وفاقی وزیر برائے داخلہ محسن نقوی نے پولیس کے تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 4 اگست کا دن ملک کی داخلی سلامتی کے نگہبانوں کے نام جنہوں نے اپنی قیمتی جانیں قربان کرکے ریاستی عملداری کو یقینی بنایا۔پیر کو یوم شہدائے پولیس پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس کے تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں،ان عظیم محافظوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہو کر امر ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی، جرائم اور سماج دشمن عناصر کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جانیں نچھاور کرنے والے پولیس افسر و جوان قوم کے ہیرو ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ پولیس کے شہدا نے فرض نبھاتے ہوئے اپنی زندگیاں قربان کرکے تاریخ میں اپنا مقام امر کیا، ریاست ان عظیم خاندانوں کی مقروض ہے جن کے بیٹوں نے امن و تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔(جاری ہے)
وزیر داخلہ نے کہا کہ شہید ایس ایس پی اشرف مارتھ، شہید کیپٹن مبین اور تمام پولیس شہدا ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔ محسن نقوی نے کہا کہ ہم ہر لمحہ پولیس کے شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے،وہ قوم ہمیشہ سرخرو ہوتی ہے جو اپنے شہدا کی تکریم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے ضمیر کے سامنے عہد کرتے ہیں کہ نہ ہم پولیس شہدا کو بھولیں گے اور نہ ہی اُن کے خاندانوں کو تنہا چھوڑیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے محسن نقوی نے کہا کہ پولیس کے شہدا کو
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔