دہلی یونیورسٹی میں اب طلباء کو مسئلہ کشمیر اور فلسطین نہیں پڑھایا جائیگا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
اکیڈمک کونسل کی رکن مونامی سنہا نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی سیاست سے متاثر معلوم ہوتی ہے اور تعلیمی فیصلے لینے میں نامناسب مداخلت کو ظاہر کرتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی یونیورسٹی نے سائیکولوجی یعنی نفسیات کے نصاب میں کچھ اہم تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سائیکولوجی کے نصاب میں اب مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ فلسطین کے مسئلے پر مبنی مواد مبینہ طور پر شامل نہیں ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ گزشتہ جمعہ کو منعقد تعلیمی امور سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کی نصاب پر مبنی میٹنگ کے دوران لیا گیا ہے۔ میٹنگ میں شامل فیکلٹی ممبرس نے دعویٰ کیا کہ کمیٹی کے سربراہ پروفیسر پرکاش سنگھ نے مغربی نظریات کے "اوور پریزنٹیشن" پر اعتراض ظاہر کیا اور "سائیکولوجی آف پیس" پیپر کے یونٹ 4 کو بدلنے پر زور دیا۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس پیپر میں "مہا بھارت" اور "بھگوت گیتا" جیسے ہندوستانی رزمیہ داستانوں کے ساتھ ساتھ فلسطین اور کشمیر مسئلہ کے موضوعات کو شامل کیا گیا تھا لیکن اب فیکلٹی ممبرس کے مطابق پروفیسر پرکاش سنگھ نے کہا ہے کہ کشمیر مسئلہ سلجھ چکا ہے اور فلسطین مسئلہ ہمیں پڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
مذکورہ بالا مواد کے علاوہ جن دیگر موضوعات پر اعتراض ظاہر کیا گیا ہے، ان میں اقلیتی کشیدگی اصول اور تنوع کی نفسیات شامل ہیں۔ حالانکہ کچھ فیکلٹی ممبرس نے ہندوستانی سماج میں ذات پات کی تفریق، خواتین کے حسد اور تعصب کے بارے میں پڑھانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کمیٹی کے سربراہ نے ایسے موضوعات کو زیادہ منفی بتا کر خارج کر دیا۔ اکیڈمک کونسل اور اسٹینڈنگ کمیٹی کی رکن مونامی سنہا نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کی خود مختاری کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پروفیسر پرکاش سنگھ کی قیادت میں کمیٹی کی کارروائی سیاست سے متاثر معلوم ہوتی ہے اور تعلیمی فیصلے لینے میں نامناسب مداخلت کو ظاہر کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت