یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے وزیر خزانہ سالم بن برائیک کو ملک کا نیا وزیر اعظم نامزد کردیا۔

عرب نیوز کے مطابق حکومتی فیصلے میں سالم بن برائیک کو وزیر اعظم نامزد کیا گیا ہے جبکہ کسی اور وزارتی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ احمد عوض بن مبارک نے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ وہ اپنے اختیارات کو مکمل طور پر استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔

2 وزرا اور پی ایل سی کے ایک رکن کے مطابق سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم احمد بن مبارک کا صدارتی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے ساتھ کئی مہینوں تک اختلاف رہا۔

بن مبارک نے کہا تھا کہ میں اپنے آئینی اختیارات کا استعمال نہیں کر سکا اور سرکاری اداروں میں اصلاحات یا صحیح حکومتی تبدیلیوں کو نافذ کرنے کے لیے ضروری فیصلے نہیں کر سکا۔

یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب یمن کے زیادہ تر حصے پر قابض حوثی اسرائیل پر میزائل فائر کرتے ہیں اور اہم آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کو نشانہ بنا رہے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ غزہ کی جنگ پر فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے۔

اپنے استعفے کے خط میں بن مبارک نے لکھا کہ رکاوٹوں کے باوجود انہوں نے مالی اور انتظامی اصلاحات اور انسداد بدعنوانی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔

تاہم بن مبارک صدارتی لیڈرشپ کونسل کے ساتھ ان کے اختلافات مسلسل چلے آرہے تھے۔

3 یمنی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بن مبارک نے بدعنوانی کا حوالہ دیتے ہوئے دفاع سمیت کئی وزارتوں کے بجٹ کو معطل کر دیا تھا جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احمد بن مبارک سالم بن برائیک یمن یمنی وزیراعظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سالم بن برائیک سالم بن برائیک

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم