کنٹرول لائن پر پاکستانی اور بھارتی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
بھارتی افواج نے اعلان کیا کہ پاکستانی فوج نے رات کے وقت جموں و کشمیر کے علاقے میں کنٹرول لائن کے ساتھ ہندوستانی مقامات پر ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کی ہے۔ بھارتی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یکم مئی 2025 کی رات پاکستانی فوج نے جموں و کشمیر فیڈرل ریجن میں کپواڑہ، بارہمولا، بونچے ، نوشیرا اور اکنور کے علاقوں میں کنٹرول لائن کے ساتھ ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ہندوستانی فوج کے اہلکاروں نے اس فائرنگ کا مناسب انداز میں جواب دیا ہے۔ یاد رہے 22 اپریل کو مسلح افراد نے مقبوضہ کشمیر کے مشہور سیاحتی شہر پہلگام میں فائرنگ کرکے 26 افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا تھا۔ مرنے والوں میں ایک نیپالی اور 25 بھارتی شہری شامل تھے۔ حملہ آور فرار ہوگئے تھے۔ہندوستان ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ بھارتی انٹلیجنس سروسز نے باہمیگ میں لشکر طیبہ گروپ کے افراد کے حملے میں پاکستانی انٹلیجنس سروس کی شمولیت کو ثابت کرنے کے لئے ثبوت تلاش کیے ہیں۔دہشت گردی کے حملے کے نتیجے میں بھارت نے اسلام آباد میں اپنے سفارت خانے کے ملازمین کی تعداد کو کم کرکے تقریبا نصف کردیا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ ختم کردیا، پاکستانی سفارتی مشن کے فوجی مشیروں نے ناپسندیدہ لوگ قرار دے دیا اور پاکستان کے ساتھ بارڈر کو بھی بند کردیا ہے۔29 اپریل کو بھارتی وزیر اعظم مودی نے ایک اعلی درجے کی سلامتی کا اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے کہا بھارتی مسلح افواج کو جموں اور کشمیر میں دہشت گردی کے حملے کے ردعمل کے طریقہ کار ، اہداف اور وقت کا تعین کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔