بھارتی یوٹیوب چینلز پر پاکستان کا ملی نغمہ نشر، ہندوستانی تلملا اٹھے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
بھارت کی جانب سے پاکستانی یوٹیوب چینلز بند کرنے کے ردعمل میں وزارت اطلاعات نے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ملی نغمہ بھارتی یوٹیوب چینلز پر چلوا دیا۔
یہ بھی پڑھیں بھارت نے 16 پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی لگادی، مگر کیوں؟
ملی نغمے میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، قومی عزم اور دفاع وطن کے جذبے کی عکاسی کی گئی ہے، یہ ملی نغمہ بھارت میں یوٹیوب پر بطور اشتہار نشر ہو رہا ہے۔ پاکستانی ملی نغمہ بھارت میں نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی۔
بھارتی صارفین نے اپنی ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور بھارتی عوام اپنے بیانیہ کی ناکامی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
پاکستان بیانیہ کی جنگ میں واضح برتری حاصل کر چکا، بھارت چاہے سچ کو روکنے کے جتنے مرضی ہتھکنڈے اپنائے، پاکستان کی آواز سرحدوں سے پار بھی سنی جائے گی۔
اپنا بیانیہ کامیابی سے بھارت کے اندر پیش کردیا، وزیر اطلاعات عطا تارڑدریں اثنا وزیر اطلاعات تارڑ نے کہا ہے کہ ہم نے اپنا بیانیہ کامیابی سے بھارت کے اندر پیش کردیا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایک بھارتی نیوز چینل پر پاکستان کا تیار کردہ ملی نغمہ نشر کیا گیا ہے جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
واضح رہے کہ پہلگام واقعہ کے بعد پاک بھارت کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، اور بھارت نے وزیراعظم پاکستان اور وزیر اطلاعات سمیت اہم شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند کردیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں یوٹیوب چینلز کے بعد بھارت نے پاکستانی اداکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کردیے
اس کے علاوہ پاکستانی میڈیا ہاؤسز کے یوٹیوب اکاؤنٹس بھی بھارت میں بلاک کردیے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت پاک بھارت کشیدگی پاکستان پاکستانی میڈیا ہاؤسز ملی نغمہ وی نیوز یوٹیوب چینلز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاک بھارت کشیدگی پاکستان پاکستانی میڈیا ہاؤسز ملی نغمہ وی نیوز یوٹیوب چینلز یوٹیوب چینلز ملی نغمہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔