لندن، بھارتی ہائی کمیشن کے باہر پاکستانیوں کا بڑا احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
احسن ڈار نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر پہلگام واقعہ کا الزام لگا کر جھوٹی مہم شروع کی، جو ایک فالس فلیگ آپریشن لگتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) برطانیہ چیپٹر کے تحت لندن کے علاقے الڈوِچ میں واقع بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے واقعہ کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی مذمت کرنا تھا۔ مظاہرین نے پاکستانی پرچم اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور "جنرل عاصم منیر زندہ باد"،"پاکستان زندہ باد"، "کشمیر پاکستان کا ہے" اور "بھارتی دہشتگردی مردہ باد" جیسے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ہندوتوا نظریے کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی، جن میں "مودی دہشتگرد ہے" اور "ہندوتوا نظریہ نامنظور" شامل تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) برطانیہ کے صدر احسن ڈار نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع اوورسیز پاکستانیوں کی اپنے وطن سے محبت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر پہلگام واقعہ کا الزام لگا کر جھوٹی مہم شروع کی، جو ایک فالس فلیگ آپریشن لگتا ہے۔ احسن ڈار نے مزید کہا کہ اس احتجاج میں پی ٹی آئی، پی ایم ایل نواز اور دیگر جماعتوں کے کارکنان نے بھی بھرپور شرکت کی، جو قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ مظاہرہ پرامن رہا لیکن اس نے میڈیا اور عوامی توجہ حاصل کی، جب کہ لندن پولیس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی کے فرائض انجام دیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔