ایرانی بندرگاہ پر دھماکا: سرکاری افسر سمیت 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
ایران کی اہم تجارتی بندرگاہ پر گزشتہ ماہ ہونے والے ایک مہلک دھماکے کے سلسلے میں ایک سرکاری اہلکار سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی بندرگاہ پر دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 36 ہوگئی، 3 روزہ سوگ کا اعلان
یاد رہے کہ 26 اپریل کو شاہد رجائی کی جنوبی بندرگاہ میں ایک گودی پر ہونے والے دھماکے میں کم از کم 57 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔
دھماکے کے بعد وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے متعلقہ انتظامیہ پر حفاظتی احتیاطی تدابیر کی عدم تعمیل اور غفلت سمیت کوتاہیوں کا الزام عائد کیا تھا۔ شاہد رجائی آبنائے ہرمز پر ایران کے ساحلی شہر بندر عباس کے قریب ہے۔ یہ آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی پیداوار کا 5 واں حصہ گزرتا ہے۔
مزید پڑھیے: چابہار بندرگاہ چلانے کے لیے بھارت کا ایران سے معاہدہ
سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کو تحقیقاتی کمیٹی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک سرکاری مینیجر اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران کی بندرگاہ ایرانی بندرگاہ پر دھماکا بندر عباس شاہد رجائی بندرگاہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران کی بندرگاہ شاہد رجائی بندرگاہ بندرگاہ پر
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔