بھارت کیخلاف پاک فوج کے ساتھ ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ملک کے اعلیٰ انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے ایک سازش کے تحت پاکستان کیخلاف الزام تراشی کی مہم شروع کی تاکہ فوج اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کی جا سکے۔
باخبر ذرائع کے مطابق، بھارتی پروپیگنڈے کی کوشش پاکستان میں سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کرنے کیلئے رچائی گئی تھی اور توقع کی جا رہی تھی کہ پی ٹی آئی کے حامی بھی پاک فوج اور اس کی قیادت کیخلاف ہو جائیں گے۔ سازش کا مقصد پہلگام حملے کا فائدہ اٹھا کر عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ پیدا کرنا تھا۔
ایک سینئر عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ بھارت اپنی بدنیت کوشش میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے، پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح اپنی مسلح افواج کے ساتھ متحد ہیں۔ بھارت توقع کر رہا تھا کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھارت کی تال سے تال ملاتے ہوئے پاک فوج اور جنرل عاصم منیر کیخلاف مہم میں ساتھ دے گا، لیکن ایسا نہ ہوا۔ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی کی قیادت نے بھی بھارت کے بے بنیاد الزامات کی مذمت کی اور اعادہ کیا کہ قوم کسی بھی غیر ملکی جارحیت کے مقابلے کیلئے متحد ہے۔
بھارتی میڈیا نے جس انداز سے پاکستان کے آرمی چیف پر تنقید کی ہے ویسی ان سے پہلے آنے والے آرمی چیفس پر کبھی نہیں کی گئی اور یہ مودی حکومت کی سازش کا حصہ ہے۔
بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں آرمی چیف پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کیے گئے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پی ٹی آئی بھارت کیخلاف پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے اور اس میں کسی اگر مگر کی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم بھارت کیخلاف متحد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نے حکومت کی بریفنگ کا بائیکاٹ کیا ہے کیونکہ ہمارا موقف تھا کہ سندھ طاس معاہدہ ختم کیے جانے سمیت حالات کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے۔
بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کے ساتھ بدتمیزی کے الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ یہ جعلی خبر ہے اور بھارت کا شیطانی منصوبہ ہے تاکہ پاکستانی عوام کو منقسم کیا جا سکے لیکن ہم متحد ہیں۔ نہ صرف سینیٹ میں پی ٹی آئی اور وفاقی اکائیوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی میں بھارت کیخلاف متفقہ قرارداد منظور کی گئی بلکہ سابق وزیراعظم اور جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے بھی بھارت کے الزامات کا سخت جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ جب پلوامہ آپریشن ہوا تو ہم نے بھارت کو مکمل تعاون کی پیشکش کی، لیکن کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا، جیسا کہ میں نے 2019ء میں پیش گوئی کی تھی، تاریخ خود کو پہلگام واقعے کے ساتھ دہرا رہی ہے۔ تحقیقات کے بجائے مودی سرکار ایک بار پھر پاکستان پر الزام عائد کر رہی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ امن ہماری ترجیح ہے لیکن اسے کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے، 2019ء کی طرح ایک مرتبہ پھر پاکستان جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، میں نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیری عوام کے حق خود ارادیت پر زور دیا ہے۔
عمران خان کے ردعمل اور پاکستان کی سیاسی تقسیم کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں ناکامی پر مایوس ہو کر بھارت نے عمران خان اور دیگر ایسے افراد کا ایکس (سابقہ ٹویٹر) اکائونٹ بھارت میں بلاک کر دیا جو ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا جاتا تھا۔
انصار عباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارت کیخلاف کہ پی ٹی ا ئی بھارت کی کے ساتھ پاک فوج
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔