نئی نسل پاکستان کا اثاثہ، مواقع ملیں تو یہ ملک کو عظیم بنا دے، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
لاہور:۔۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ تعلیم کا شعبہ مسلط حکمران طبقات کی ترجیحات میں کبھی بھی شامل نہیں رہا۔ تعلیمی نظام استحصالی اور طبقاتی ہے، چھ کروڑ کے قریب نوجوان بے روزگار ہیں، حکمران نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں تو ملک عظیم بن جائے، ایسا نہ ہوا تو نوجوان تباہی کے راستے پر چل پڑیں گے۔ جماعت اسلامی اور الخدمت فاﺅنڈیشن بنوقابل کے ذریعے اپنے حصہ کی شمع جلا رہی ہے، حکومتیں اپنی ذمہ داری سے مکمل غافل ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں بنوقابل اسٹارٹ اپ ایکسیلنس سمٹ (Bano Qabil Startup Excellence Summit) سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
الخدمت فاﺅنڈیشن پاکستان کے زیراہتمام تقریب میں مختلف کمپنیوں نے نوجوانوں میں انٹرن شپ لیٹر تقسیم کیے۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر لاہور ضیاالدین انصاری ایڈوکیٹ، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی، صدر الخدمت لاہور انجینئر احمد حماد اورحلقہ خواتین لاہور کی ناظمہ عظمیٰ عمران، نائب ناظمہ شازیہ عبدالقادر اور دیگر خواتین قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی۔
حافظ نعیم الرحمن نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور الخدمت کی ٹیم کو بہترین تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی۔ انہوں نے شرکا کو بتایا کہ اطلاعات کے مطابق گوگل آئندہ چھ ماہ میں پاکستان میں اپنا دفتر کھولے گا، یہ نوجوانوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے نوجوانوں، طلبہ و طالبات کو نومبر میں مینار پاکستان پر اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ اجتماع عام ملک کے مظلوم طبقات کے لیے امید لے کر آئے گا اور تبدیلی کی تحریک کا آغاز ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان میں بارہ لاکھ طلبہ وطالبات نے بنو قابل میں رجسٹریشن کرالی، بڑے شہروں میں مفت آئی ٹی کورسز کا آغاز ہوچکا ہے۔ نوجوانوں کے ساتھ عنقریب گھریلو خواتین کے لیے بھی مفت آئی ٹی تعلیم کا آغاز کریں گے، پہلے ہدف دس لاکھ تھا، اب آئندہ دوبرسوں میں بیس لاکھ بچوں کو مفت کورسز کرائیں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمرانوں کی لاپرواہی اور عوام کو وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے پونے دوکروڑ بچے اسکول نہیں جاتے۔ روزگار کے مواقع نایاب ہیں ، نوجوان خطرناک راستوں سے یورپ بھاگ رہے ہیں۔ ملک میں 32 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں، یہ تعداد چھ کروڑ کے قریب ہے۔ کسی قوم کے لیے اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی جب تعلیم تجارت بن جائے اور صلاحیتوں کے باوجود نوجوانوں کو مواقعوں سے محروم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں قوم اور خصوصی طور پر نوجوانوں کو فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی، ہمیں اپنے حق کے لیے بھی لڑنا ہے اور تعلیم، ہنر میں بھی آگے بڑھنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور