data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 لاہور:۔۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ تعلیم کا شعبہ مسلط حکمران طبقات کی ترجیحات میں کبھی بھی شامل نہیں رہا۔ تعلیمی نظام استحصالی اور طبقاتی ہے، چھ کروڑ کے قریب نوجوان بے روزگار ہیں، حکمران نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں تو ملک عظیم بن جائے، ایسا نہ ہوا تو نوجوان تباہی کے راستے پر چل پڑیں گے۔ جماعت اسلامی اور الخدمت فاﺅنڈیشن بنوقابل کے ذریعے اپنے حصہ کی شمع جلا رہی ہے، حکومتیں اپنی ذمہ داری سے مکمل غافل ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں بنوقابل اسٹارٹ اپ ایکسیلنس سمٹ (Bano Qabil Startup Excellence Summit) سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

الخدمت فاﺅنڈیشن پاکستان کے زیراہتمام تقریب میں مختلف کمپنیوں نے نوجوانوں میں انٹرن شپ لیٹر تقسیم کیے۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر لاہور ضیاالدین انصاری ایڈوکیٹ، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی، صدر الخدمت لاہور انجینئر احمد حماد اورحلقہ خواتین لاہور کی ناظمہ عظمیٰ عمران، نائب ناظمہ شازیہ عبدالقادر اور دیگر خواتین قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی۔

حافظ نعیم الرحمن نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور الخدمت کی ٹیم کو بہترین تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی۔ انہوں نے شرکا کو بتایا کہ اطلاعات کے مطابق گوگل آئندہ چھ ماہ میں پاکستان میں اپنا دفتر کھولے گا، یہ نوجوانوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے نوجوانوں، طلبہ و طالبات کو نومبر میں مینار پاکستان پر اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ اجتماع عام ملک کے مظلوم طبقات کے لیے امید لے کر آئے گا اور تبدیلی کی تحریک کا آغاز ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان میں بارہ لاکھ طلبہ وطالبات نے بنو قابل میں رجسٹریشن کرالی، بڑے شہروں میں مفت آئی ٹی کورسز کا آغاز ہوچکا ہے۔ نوجوانوں کے ساتھ عنقریب گھریلو خواتین کے لیے بھی مفت آئی ٹی تعلیم کا آغاز کریں گے، پہلے ہدف دس لاکھ تھا، اب آئندہ دوبرسوں میں بیس لاکھ بچوں کو مفت کورسز کرائیں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمرانوں کی لاپرواہی اور عوام کو وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے پونے دوکروڑ بچے اسکول نہیں جاتے۔ روزگار کے مواقع نایاب ہیں ، نوجوان خطرناک راستوں سے یورپ بھاگ رہے ہیں۔ ملک میں 32 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں، یہ تعداد چھ کروڑ کے قریب ہے۔ کسی قوم کے لیے اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی جب تعلیم تجارت بن جائے اور صلاحیتوں کے باوجود نوجوانوں کو مواقعوں سے محروم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں قوم اور خصوصی طور پر نوجوانوں کو فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی، ہمیں اپنے حق کے لیے بھی لڑنا ہے اور تعلیم، ہنر میں بھی آگے بڑھنا ہے۔

ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کہا کہ کے لیے نے کہا

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا