Jasarat News:
2026-06-02@23:05:04 GMT

وینزویلا کے صدر کے پائلٹ کو خریدنے کی امریکی کوشش ناکام

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراکس (انٹرنیشنل ڈیسک) وینزویلا کے صدر کے پائلٹ کو خریدنے کی امریکی کوشش کا انکشاف ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق ایک امریکی وفاقی ایجنٹ نے وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کے ذاتی پائلٹ کو بھاری دولت اور سیکورٹی کی ضمانت کے عوض بھرتی کرنے کی کوشش کی، تاکہ مادورو کو ایک ایسے مقام پر لایا جا سکے جہاں امریکا اسے گرفتار کر سکے۔ یہ واقعہ 2024ء میں جمہوریہ ڈومینیکن میں پیش آیا، جب امریکی محکمہ داخلہ سیکورٹی کے سابق فوجی افسر اور تفتیش کار ایڈون لوپیز کو اطلاع ملی کہ وینزویلا کے 2صدارتی طیارے سانتو ڈومینگو کے لا اِزابیلا ہوائی اڈے پر مرمت کے لیے موجود ہیں، جو ممکنہ طور پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی تھی۔ تحقیقات کے دوران لوپیز کو معلوم ہوا کہ ان طیاروں کو واپس وینزویلا لے جانے والوں میں جنرل بٹینر ویلیگاس بھی شامل ہیں، جو مادورو کے ذاتی پائلٹ اور صدارتی گارڈ کے رکن ہیں۔ لوپیز کے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ ویلیگاس کو انحراف پر آمادہ کیا جائے۔ ہوائی اڈے کے ایک خفیہ ہینگر میں ملاقات کے دوران لوپیز نے پائلٹ کوعمر کی سب سے بڑی ڈیل کی پیشکش کی۔ اس نے کہا کہ اگر وہ مادورو کے طیارے کو کسی طے شدہ مقام جیسے پورٹو ریکو یا گوانتانامو بیس پر اتار دیں، تو مادورو امریکی تحویل میں آ جائے گا۔ بدلے میں لوپیز نے اسے بڑی دولت اور ہیرو بننے کا وعدہ کیا۔پائلٹ نے گھبراہٹ کے عالم میں اپنا نمبر دیا اور چلا گیا جسے لوپیز نے امید کی کرن سمجھا۔ اگلے ایک سال تک دونوں کے درمیان خفیہ ایپس پر رابطہ رہا، حتیٰ کہ لوپیز جولائی 2025ء میں ریٹائر ہو گیا۔ اسی دوران واشنگٹن اور کاراکاس کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے اور ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو کی گرفتاری پر انعام بڑھا کر 5 کروڑ ڈالر کر دیا۔لوپیز نے موقع غنیمت جانا اور پائلٹ کو وزارتِ انصاف کی جانب سے جاری اس انعام کا لنک بھیج کر لکھاکہ اب بھی تمہارے جواب کا انتظار ہے ۔ جب لوپیز کو یقین ہو گیا کہ منصوبہ ناکام ہو چکا ہے، تو اس نے اسے نفسیاتی جنگ میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔ وینزویلا کے جلاوطن مخالفین کے تعاون سے ٹرمپ انتظامیہ کے سابق اہلکار مارشل بلِنگزلیا نے ویلیگاس کی سالگرہ کی مبارکباد کے ساتھ دو تصاویر شیئر کیں۔ ایک لوپیز کے ساتھ ملاقات کے وقت اور دوسری وردی میں، جس پر ترقی کا ایک اضافی ستارہ لگا تھا۔ چند گھنٹوں میں یہ پوسٹ تقریباً 30 لاکھ بار دیکھی گئی اور وینزویلا میں ویلیگاس کی وفاداری پر سوالات اٹھنے لگے۔ چند روز بعد ویلیگاس سرکاری نشریات میں وزیرِ داخلہ دیوسدادو کابیو کے ساتھ نمودار ہوا۔ اس موقع پر کابیو نے اسے محب وطن قرار دیا،جس سے امریکی سازش سب کے سامنے آگئی۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے لوپیز نے پائلٹ کو

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان