بھارت کا پاکستان کی بین الاقوامی تجارت پر خطرناک وار
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
تیسرے ملکوں کے پرچم بردار جہازوں کو بھی بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے سے روک دیا
بھارت نے پاکستان کی ایکسپورٹ کو متاثر کرنے کے لیے نیا ہتھکنڈا اختیار کرلیا، رپورٹ
بھارت نے پاکستان کی بین الاقوامی تجارت پر وار کرتے ہوئے پاکستانی کنٹینرز لے کر بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والے تیسرے ملکوں کے پرچم بردار بحری جہازوں کو بھی بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے سے روک دیا۔رپورٹ کے مطابق بھارت نے پاکستان کی ایکسپورٹ کو متاثر کرنے کے لیے نیا ہتھکنڈا اختیار کرلیا، پاکستانی درآمدات پر پابندی اور پرچم بردار بحری جہازوں کے بعد ٹرانزٹ کارگو والے جہازوں کو بھی لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔تیسرے ملک کے لیے کارگو لے جانے والی شپنگ کمپنی آئی ای ایکس کے کنٹینرز بردار بحری جہاز کو برتھ فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ ذرائع شپنگ انڈسٹری نے کہا کہ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی کارگو لانے والے کسی جہاز کو بھارت کی بندرگاہ پر برتھ نہیں دی جائیگی۔ماہرین کے مطابق بھارتی اقدامات سے خطے کی لاجسٹکس کے علاؤہ بین الاقوامی شپنگ انڈسٹری بھی متاثر ہوگی، پاکستانی کارگو لے جانے والے جہازوں کو خصوصی سروس چلانا پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایسی شپنگ سروسز سے ایکسپورٹ امپورٹ کرنا ہوگی کو بھارت کی بندرگاہ استعمال نہیں کرتے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔