ٹک ٹاک کے جنون میں 10 سالہ بچہ ریلوے ٹریک پر جان سے کھیل گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
یاسر عرفات: نارووال میں ٹک ٹاک کا جنون بچوں میں بھی خطرناک حد تک بڑھنے لگا، بدومہلی ریلوے اسٹیشن پر ایک 10 سالہ بچہ ریلوے ٹریک عبور کرتے ہوئے تیز رفتار ٹرین کے انجن سے بال بال بچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق واقعہ بدومہلی ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا جہاں ایک کمسن بچہ ریلوے لائن عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا اس دوران پیچھے سے تیز رفتار ٹرین آتی دکھائی دی لیکن بچہ انجن کے بالکل قریب سے گزر کر معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس میں بچے کی جان لیوا حرکت کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی
شہریوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اس طرح کے خطرناک اور جان لیوا اقدامات سے روکیں جو صرف چند لمحوں کی ویڈیو کے لیے اپنی زندگی کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں بچوں اور نوجوانوں کے درمیان ٹک ٹاک ویڈیوز کے لیے خطرناک اسٹنٹس کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے باعث کئی جانیں ضائع بھی ہو چکی ہیں۔
یہ اپریل ہسٹری کا گرم ترین اپریل کیوں تھا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔