اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارے خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر کہتا ہوں مسائل چھوٹے ہیں ادراک بڑے ہیں۔ یہ وقت ملک کو اکٹھا کرنے کا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ پاکستان کسی اور کام کے لئے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لغزش کی گنجائش نہیں جب کوئی حملہ کرے گا تو لڑنا ہوگا۔ ہم تین سال سے چیخ رہے ہیں کہ ہمارا خطہ جنگ کا میدان بننے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ انصاف کی کرسی پر ہوں گے تو انصاف کرنا ہے۔ کیا یہ پاکستان سے وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ اسے لوٹا جائے؟۔ جو ضمیر اور ایمان بیچتا ہے وہ ملک کا وفادار ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں مل کر قومی حکومت بنائیں اور پاکستان کو بچائیں، پاکستان مشکل میں ہے۔ یہ واحد ملک ہے جو اپنے ہی بچوں کو کرپٹ بناتا ہے پھر گرفتار اور آخر میں وزیر اعلیٰ بھی بنا دیتا ہے۔ ہمارے سے بہتر ایجنڈا کسی کے پاس ہے تو آئیں ہم ان کے ہاتھ چومیں گے۔ آئین ہمیں آپس میں باندھ کر رکھتا ہے، آپ لوگ اس کو توڑ دیتے ہیں۔ ہم کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، پاکستان کو اس دلدل سے نکالنا ہے۔

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

بھارتی جنگی جنون اور ایٹمی پاکستان

اسلام ٹائمز: وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے پاکستان کا پانی روکنے کیلئے کسی بھی ڈھانچے کی تعمیر کو تباہ کرنے کا اعلان بھی قوم کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے دوست ممالک کو اعتماد میں لینے کیلئے سفارتی رابطے بھی کامیابی کیساتھ جاری ہیں۔ افغانستان نے بھی پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے، جو کہ خوش آئند ہے۔ لیکن ساتھ کس حد تک دیتا ہے، یہ بعد کی بات ہے۔ ہم ان شاء اللہ توقع رکھتے ہیں کہ قوم کے تعاون کیساتھ افواج پاکستان یہ جنگ جیتیں گے اور اب تک کا ماحول بتا رہا ہے کہ پاکستان نفسیاتی حوالے سے اپنا ماحول بنانے اور اپنا کیس عالمی سطح پر لے جانے میں کامیاب ہوا ہے۔ تحریر: سید منیر حسین گیلانی

برصغیرمیں باہر سے آنیوالی قوتوں نے ایک لمبا عرصہ یہاں حکمرانی کی ہے۔ مختلف ادوار میں یہاں کے عوام مسلط حکومتوں کو گرا کر اپنے باسیوں کی حکومت کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے رہے۔ سوری، مغل، تغلق اور رنجیت سنگھ کی حکومتیں یہاں قائم رہیں، جبکہ آخر میں برطانوی سامراج، جس کا پوری دنیا میں طوطی بولتا تھا، نے بھی ظلم و ستم کے ذریعے لمبا عرصہ اپنا اقتدار برقرار رکھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی حکمران کمزور ہوئے تو برصغیر میں بھی ان کے خلاف آزادی کی تحریک شروع ہوئی۔ برطانوی حکومت نے آزادی برصغیر کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے خلفشار کو ختم کرنے کیلئے آمادگی کا اظہار کر دیا۔ اسی طرح ہندووں کے متعصبانہ اقدامات کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنا وجود اور مذہب خطرے میں محسوس ہوا، تو ان کے اندر بھی ’لا الہ الا اللہ ‘ کی بنیاد پر ایک خود مختار مسلم مملکت کا جذبہ امڈ آیا، تو پاکستان 1947ء میں معرض وجود میں آگیا۔ اس کے سرحدی اور نظریاتی خطوط بھی واضح کر دیئے گئے۔

یہ اسلام کے نام اور نظریات پر مشتمل نئی مملکت ہے، جس کے سرحدی تحفظ کی ذمہ داری افواج پرعائد ہوتی ہے۔ جبکہ نظریاتی سرحدوں کی ذمہ داری دینی طبقے کی ہے۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کیلئے 21 تا 24 جنوری 1951ء چار روزہ اجلاس میں سنی شیعہ اہل حدیث دیوبندی مکاتب فکر کے 31 علماء نے 22 نکات پر اتفاق کرکے اسلامی مملکت کے خدوخال پیش کردیئے۔ مگر ایک مملکت جو اسلام کے نام پر بنی سامراجی سازش کے تحت مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئی۔ خاص طور پر مارشل لاء حکومتوں کے دوران ہر مسلک نے مشترکہ میراث اسلام کی بجائے اپنے اپنے فرقے کا نقطہ نظر نمایاں کرنا شروع کر دیا اور نئی تشریحات میں اپنے علاوہ کسی کو مسلمان سمجھنے سے گریزاں ہونے لگے۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں فرقہ واریت اور نفرت نے جگہ بنانا شروع کر دی۔ میری توجہ اس پر نہیں کہ مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش کیوں بن گیا اور باقی ماندہ ملک انتشار کی اماجگاہ کیوں بن گیا۔ مجھے ان دنوں کے حالات کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کیونکہ افواج پاکستان اپنی ذمہ داری کو اپنے نوجوانوں کی شہادتوں کی صورت میں پیش کر رہی ہیں۔

ہمارا ازلی دشمن بھارت ہماری سرحدوں کو پامال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ الحمدللہ ! افواج پاکستان ہر قسم کی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی اور آمادہ ہیں۔ یہ بھی ایک خوشگوار حقیقت ہے کہ جب بھی ملکی سلامتی پر کوئی مشکل آن پڑی تو مختلف فرقوں اور برادریوں میں تقسیم قوم ہندو سامراج کیخلاف یکجا ہوئی اور سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ تمام مکاتب فکر کے علماء، دانشور، صحافی، تاجر، صنعتکار اور سیاستدان یکسوئی کیساتھ افواج پاکستان کی پشت پر کھڑے ہیں۔ جب بھی کبھی بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو عوام نے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر اپنی فوج کے شانہ بشانہ جنگ میں حصہ لیا۔ مجھے وہ وقت یاد ہے کہ جب 1965ءکی جنگ شروع ہوئی تو پاکستانی عوام خصوصا ًزندہ دلان لاہور نے فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان دنوں میں نے عملی طور پر لاہور میں تنظیم شہری دفاع کے پلیٹ فارم سے اپنی استطاعت کے مطابق کردار ادا کیا۔ گارڈن ٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن کا علاقہ میری ذمہ داری میں تھا۔ ہم نے جنگ میں ’’ایل‘‘ اور ’’ڈبلیو‘‘ شکل کی خندقیں بنائیں تاکہ کسی فضائی حملے کی صورت میں شہری محفوظ پناہ گاہ حاصل کر سکیں۔

میں پہلے وارڈن، پھر ہیڈ وارڈن اور ڈویژنل ہیڈ وارڈن میاں اسحاق نرسری والے کیساتھ ڈپٹی ڈویژنل ہیڈ وارڈن بھی مقرر ہوا۔ اس دوران بھارتی جہازوں نے گولہ باری کی تو کلمہ چوک کے پاس بڑا گولہ بھی گرایا گیا، جبکہ کوٹ لکھپت ریلوے اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا لیکن سول ڈیفنس کے جوانوں نے جواں مردی کیساتھ عوام کو ذہنی طور پر خوفزدہ ہونے سے بچایا اور قومی تحفظ میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ اسی طرح افواج پاکستان کے جوان جہاں بارڈر پر جنگ لڑتے تھے تو لاہور کے جوان گوداموں سے اسلحہ نکال کر آرمی کے ٹرکوں میں لوڈ کر کے فوج کے مددگار بنتے رہے۔ بھارتی فوج نے شکرگڑھ کے علاقے میں آگے بڑھنے کی کوشش کی تو بارڈر کے دونوں اطراف بڑی جنگ ہوئی۔ اس میں ہمارے فوجی جوانوں نے سینے پر بم باندھ کربھارتی ٹینکوں کے آگے لیٹ کر انہیں تباہ کیا اور حملے کو روکا۔ پھر قصور کی طرف دریائے ستلج کے کنارے انڈیا کا بڑا رقبہ جو کہ کھیم کرن تک پھیلا ہوا تھا پاکستان نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ میں بذات خود سول ڈیفنس کے نوجوانوں کو لے کر کھیم کرن تک پہنچا۔ ظاہر ہے جنگوں میں تباہی ہوتی ہے اور وہ ہم نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھی بھی ہے۔ لیکن ہم خود قوم کو کتنا بچا سکتے ہیں مد نظر رہنا چاہیے۔

مجھے خوشی ہوئی کہ وزیر داخلہ محسن نقوی سول ڈیفنس کے مرکز میں انتظامیہ کو کچھ احکامات جاری کرتے ہوئے ٹی وی پر دکھائی دیئے۔ اس واقعہ کو دیکھ کر 82 سال کا بزرگ منیرحسین گیلانی، دفاع وطن کیلئے آج بھی اسی جذبہ کے ساتھ تیار ہے۔ میں کوئی بڑی بات نہ کہتے ہوئے عاجزی سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی عمر، قد اور بڑھاپے کی صورت میں ہمہ وقت تیار آمادہ ہوں۔ میں شکر گزار ہوں تمام مکاتب فکر کے علماء اور سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کا کہ وہ انڈیا کی دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کیلئے آمادہ اور یکسو ہیں اور قوم میں جذبہ حب الوطنی پیدا کر رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشتگردی کے واقعہ کو بنیاد بنا کر گجرات کے قصائی نریندر مودی اپنی بری خصلت سے باز نہیں آ رہا، حالانکہ اب تک انڈیا کو کوئی بھی ثبوت پاکستان کیخلاف دہشتگردی کے واقعہ میں شمولیت کا پیش نہیں کر سکا، جبکہ دوسری طرف ایران اور سعودی عرب نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کروانے کی پیش بھی کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اچھے جذبات کا اظہار کیا ہے لیکن سب سے بڑی بات چین کی طرف سے دوستی کے عزم کا اظہار ہے، کہ اس نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کیساتھ کھڑا ہے۔ بھارتی میڈیا کا کردار انتہائی بھیانک ہے جو جنگ کا ماحول بنانے کیلئے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔ اسی طرح سے کشمیری عوام کا ردعمل جب بھارتی میڈیا لینا شروع کرتا ہے، تو اپنے مطلب کی بات نہ پا کر مایوس ہو جاتا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے پاکستان کا پانی روکنے کیلئے کسی بھی ڈھانچے کی تعمیر کو تباہ کرنے کا اعلان بھی قوم کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے دوست ممالک کو اعتماد میں لینے کیلئے سفارتی رابطے بھی کامیابی کیساتھ جاری ہیں۔ افغانستان نے بھی پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے جوکہ خوش آئند ہے۔ لیکن ساتھ کس حدتک دیتا ہے یہ بعد کی بات ہے۔ ہم ان شاءاللہ توقع رکھتے ہیں کہ قوم کے تعاون کیساتھ افواج پاکستان یہ جنگ جیتیں گے اور اب تک کا ماحول بتا رہا ہے کہ پاکستان نفسیاتی حوالے سے اپنا ماحول بنانے اور اپنا کیس عالمی سطح پر لے جانے میں کامیاب ہوا ہے۔ ہماری دعائیں اپنی افواج کیساتھ ہیں۔ ایک بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ کسی صورت ہونی چاہیے لیکن ایٹمی قوت کو جب للکاریں گے اور جھوٹے الزامات لگائے گئے تو ایٹمی ہتھیار ہم نے بھی کوئی شوکیس میں سجانے کیلئے نہیں، بلکہ اپنے دفاع کیلئے رکھے ہیں۔ جب کبھی اپنے وطن کی سالمیت اور وجود کو خطرہ ہوا تو ہم یقیناً اپنے ایٹمی اثاثے استعمال کریں گے۔

یہاں مجھے بہت یاد آرہے ہیں ذوالفقارعلی بھٹو شہید، جنہوں نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، بے نظیر بھٹو شہید جنہوں نے میزائل سسٹم کو مضبوط کیا اور سب سے بڑھ کر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان رحمتہ اللہ علیہ کہ جنہوں نے اس وقت کے وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن مرحوم کے توسط سے وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ وہ کس طریقے سے ایٹم بم بنا سکتے ہیں۔ جب ایٹم بم پاکستان نے بنایا تو اس میں بہت تسلسل اور رازداری رہی، چاہے پاکستان میں مختلف حکومتیں آئیں لیکن ہر حکومت نے ایٹمی پروگرا م کو جاری رکھا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شخصیات کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے کہ جن کے مخلصانہ کردار کی وجہ سے آج ہم فخر کیساتھ سر اٹھا کر چل سکتے ہیں کہ ہم ایک ناقابل تسخیر پاکستان کے باسی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کے بعد برطانوی حکومت نے بھی اپنی شہریوں کو پاک بھارت سفر سے روک دیا۔
  • تمام سیاسی جماعتیں مل کر قومی حکومت بنائیں اور پاکستان کو بچائیں، محمود خان اچکزئی
  • بھارتی مسلمان خاتون پاکستانی پرچم کو بے حرمتی سے بچانے کیلئے انتہاپسندوں سے لڑ گئی
  • چوروں، ڈاکوؤں کو سپورٹ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ محمود اچکزئی
  • تمام سیاسی جماعتیں مل کر قومی حکومت بنائیں اور پاکستان کو بچائیں، اچکزئی
  • اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قومی ایجنڈا تیار
  • غیرملکی طاقتیں ہمارے وسائل پر قبضے کیلئے سرگرم ہیں: شاندانہ گلزار
  • ادارے جب تک سیاست میں مداخلت کرینگے ملک ترقی نہیں کر سکتا، محمود اچکزئی
  • بھارتی جنگی جنون اور ایٹمی پاکستان