— فائل فوٹو

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ’پاکستان-بھارت مسئلہ‘ پر بند کمرہ اجلاس میں خطے کی بگڑتی سیکیورٹی صورتحال اور بھارتی اشتعال انگیزی پر غور کیا گیا جس اجلاس کے دوران فوجی تصادم سے بچاؤ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور جنگی بیانات پر پاکستان کی درخواست پر یہ اجلاس بلایا گیا تھا جس میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ارکان نے کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں فوجی تصادم سے بچاؤ اور سفارتی راستے اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا، کئی ارکان نے مسئلہ کشمیر کو علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ سلامتی کونسل کے ارکان نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

پاکستان اور بھارت میں جنگ کی سی صورتِ حال میرے لیے باعثِ تکلیف ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، پاکستان اور بھارت کے عوام کی امن مشنز میں کارکردگی پر شکرگزار ہوں۔

ترجمان کے مطابق پاکستانی مندوب نے بھارت کی 23 اپریل کی یکطرفہ کارروائیوں پر بریفنگ دی، انٹیلیجنس اطلاعات میں بھارت کی ممکنہ عسکری کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے، بھارت کے اشتعال انگیز اقدامات کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جارحیت کی صورت میں پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت دفاع کا حق رکھتا ہے، پاکستان نے پہلگام حملے سے متعلق بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کردیا تھا، بغیر تحقیق اور ثبوت کے الزامات لگانا قابل مذمت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت ایسے واقعات کا استعمال کشمیری جدوجہد کو کمزور کرنے کےلیے کرتا ہے، بھارت کی ریاستی دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگز کا بھی حوالہ دیا گیا۔

ثالثی کیلئے عالمی طاقتیں متحرک، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، جنگ حل نہیں، اقوام متحدہ، صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف سے چینی، برطانوی، ایرانی نمائندوں کی ملاقاتیں

اقوام متحدہ /اسلام آباد پاک بھارت ثالثی کیلئے.

..

 ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا بھارت کی خطرناک چال ہے، دریاؤں کے بہاؤ کو روکنا یا موڑنا جنگ کے مترادف ہوگا، بین الاقوامی برادری فوری طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، بھارت-پاکستان مسئلہ اقوام متحدہ کے قدیم ترین ایجنڈوں میں شامل ہے۔

 ترجمان کے مطابق پاکستان نے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی ثالثی کی حمایت بھی کی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ترجمان دفتر خارجہ سلامتی کونسل اقوام متحدہ اور بھارت بھارت کے کے مطابق بھارت کی

پڑھیں:

پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ پاکستان رواں برس ستمبر میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے تمام رکن ممالک کو 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کی چیئرمین شپ سنبھال لی

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کرغزستان کے خوبصورت شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی۔

جہاں انہوں نے تنظیم کی 25ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے علاقائی امن، سلامتی، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے فروغ میں ایس سی او کے کردار کو سراہا۔

Deputy Prime Minister and Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar represents Pakistan at the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Council of Foreign Ministers Meeting held in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan.#SCO #IshaqDar #PakistanDiplomacy #Pakistan #PakistanTV pic.twitter.com/KTFIYTe5TK

— Pakistan TV (@PakTVGlobal) July 24, 2026

اسحاق ڈار نے کرغز قیادت اور وزیر خارجہ ژین بیک کولوبایف کا اجلاس کی شاندار میزبانی اور بہترین انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔

اپنے خطاب میں نائب وزیراعظم نے ’شنگھائی اسپرٹ‘ سے پاکستان کی غیرمتزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان تعاون، علاقائی روابط اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔

مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، اسحاق ڈار کا آسیان فورم سے خطاب

انہوں نے علاقائی امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے اسلام آباد مذاکرات اور بعد ازاں ہونے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیا، جسے انہوں نے پاکستان کے مذاکرات اور سفارتکاری پر مبنی پالیسی کا عملی اظہار قرار دیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ انہیں اپنے ہم منصب وزرائے خارجہ کی جانب سے پاکستان کی مخلصانہ امن کوششوں کو سراہنے پر خوشی ہوئی، جو خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کا اعتراف ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار امن و استحکام سفارتکاری شنگھائی اسپرٹ شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی روابط کرغزستان کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ مذاکرات وزرائے خارجہ کونسل وزیر خارجہ

متعلقہ مضامین

  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ