صنعا: حوثیوں کا اسرائیل سے ڈیل کرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
SANAA,:
یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
یمنی حوثی گروپ انصار اللہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیلی بندرگاہوں کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھنے والی کمپنیوں کے جہازوں کو اپنا ہدف بنائیں گے چاہے وہ جہاز کسی بھی ملک کی ملکیت ہوں۔
غیر ملکی ذرائع کے مطابق حوثی قیادت نے کہا ہے کہ ان کی فوج تمام ایسے جہازوں پر حملہ کرے گی جو اسرائیلی بندرگاہوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا کاروبار کر رہی ہوں۔
حوثی فوج کے ترجمان نے ایک ٹی وی بیان میں متنبہ کیا کہ اگر ان کمپنیوں نے ان کی وارننگ کو نظرانداز کیا، تو ان کے جہازوں کو کسی بھی منزل پر جا رہے ہوں، نشانہ بنایا جائے گا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ یمنی مسلح افواج عالمی برادری سے درخواست کرتی ہیں کہ وہ اس کشیدگی سے بچنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ غزہ میں جارحیت بند کرے اور محاصرہ ختم کرے۔
حوثی قیادت کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف یمن اور فلسطین کے عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جہازوں کو
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔