پاکستان کا پہلا لانگ رینج زمینی نگران ریڈار AM350S تیار
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
پاکستان نے بھارتی بری اور فضائی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کے لیے پہلا لانگ رینج گراؤنڈ سرویلنس ریڈار AM350S کامیابی سے تیار کر لیا ہے یہ جدید ریڈار این آر ٹی سی اور بلیو سرج کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے جو ملک کے دفاعی شعبے میں ایک بڑی پیش رفت ہے یہ ریڈار 350 کلومیٹر کی دوری تک دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے اور 60 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے والے طیارے کو بھی باآسانی شناخت کر سکتا ہے جبکہ 450 کلومیٹر کے دائرے میں توپوں ٹینکوں اور طیاروں سمیت دیگر عسکری ساز و سامان کی پہچان کی صلاحیت بھی رکھتا ہے یہ AM350S ایک ایسا جدید نظام ہے جو خاص آلات سے لیس ہے جسے دشمن جام نہیں کر سکتا یہ ہر قسم کے موسم جیسے شدید دھند بارش یا طوفان میں بھی مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے اور اسے صرف 30 منٹ کے اندر قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے اس کی توانائی کی کھپت بھی انتہائی کم یعنی صرف 400 واٹ ہے یہ ریڈار پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئروں کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے جسے باآسانی کہیں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے اور یہ ملکی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سکتا ہے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔