عالمی برادری اور اقوام متحدہ پاک بھارت کشیدگی ختم کروائے،اکرم گِل WhatsAppFacebookTwitter 0 6 May, 2025 سب نیوز

اسلام آباد/نیویارک: سابق وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور اکرم مسیح گل نے پاک فوج سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں، لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو قوم متحد ہو کر دشمن کو منہ توڑ جواب دے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل سے ملاقات کےدوران کیا۔

اکرم مسیح گل نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ سے امن پر مبنی رہی ہے،ہماری خواہش ہے کہ جنوبی ایشیائی خطہ ترقی کرے، یہاں کے عوام خوشحال ہوں، اور اقوام ایک دوسرے کے ساتھ احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کریں۔ اکرم مسیح گل نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کو کم کرانے میں اپنا مؤثر اور عملی کردار ادا کریں تاکہ جنوبی ایشیاء میں امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع پر کامران مائیکل نے کہا کہ مسیحی برادری وطن عزیز کے دفاع کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے موجودہ حالات میں پوری قوم متحد ہے اور ہر محب وطن پاکستانی دشمن کے ناپاک عزائم کے خلاف ایک صفحے پر ہے۔کامران مائیکل کا کہنا تھا کہ پاک فوج قوم کا فخر ہے، اور پاکستان کی مسیحی برادری ہر قربانی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے پوری قوم، خصوصاً اقلیتیں، پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہیں۔اس موقع پر پاسٹر روبن یامین اور پاسٹر طارق رحمت نے ملک کی سلامتی، ترقی اور امن و امان کے لیے خصوصی دعا کی،اس کے ساتھ ساتھ پاسٹرعرفان مائیکل اور ولیم مائیکل نے وطن عزیز کے استحکام، پاک فوج کی کامیابی اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بھی دعا کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، بلاول بھٹو پاکستان دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، بلاول بھٹو قومی اسمبلی اجلاس؛ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینےکےلئے پورا ایوان یک زبان ایڈیشنل ڈی جی کی حسن ابدال میں دبنگ کارروائیاں، 6 لاکھ 50 ہزار کے جرمانے عائد سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نظرثانی اسکوپ سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا سانحہ 9 مئی: رہنما پی ٹی آئی حلیم عادل شیخ، خرم شیر زمان سمیت 32 کارکنوں پر فرد جرم عائد آرمی چیف کا احسن اقدام، بھارت سے واپس بھیجے گئے دو بچوں کے علاج کا ذمہ لے لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی اور اقوام

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ