حسن علی:کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے قیام کو با ضابطہ قانون کی شکل دینے کا معاملہ، دی پولیس آرڈر ترمیمی بل 2025 قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے منظور کر لیا۔

تفصیلات کےمطابق قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ترمیمی بل مزید ترامیم کے ساتھ منظور کیا، کیس سی سی ڈی کو تفویض کرنے کے اختیارات اے آئی جی اور ڈی پی او کو دینے کی تجویز دی گئی،

ترمیم کی تجویز ممتاز چانگ، فرخ مون اور شعیب امیر نے دی،ترامیم متفقہ طور پر منظور ہوئی، کمیٹی کی ترامیم کی تجویز مسترد یا قبول کرنا حکومت کی ثواب دید ہو گا۔
کمیٹی کی منظوری کے بعد بل ایوان سے بذریعہ رائے شماری منظور کروایا جائے گا، بل حتمی منظوری کے لئے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کو بھیجا جائے گا، اسمبلی اجلاس نہ ہونے کے باعث بذریعہ گورنر آرڈیننس ڈیپارٹمنٹ بنانے کی اجازت ملی تھی۔
گورنر پنجاب نے 4 اپریل کو پولیس آرڈر 2002 میں ترمیم کی اجازت دی،آرڈیننس کےمتن میں بتایا گیا کہ دی پولیس آرڈر ترمیم آرڈیننس 2025 کو با ضابطہ قانون کی شکل دی جائے گی، کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ گورنر آرڈیننس کے ذریعے اپنا کام کر رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی

کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ فورتھ شیڈول جرائم دیکھے گا،کرائم کنٹرول فورس کے نام سے سپیشل فورس تشکیل دی جائے گی،کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی پولیس ہوں گے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پولیس آرڈر

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی